09/January/2026

ایران تخریب کاروں کے سامنے نہیں جھکے گا، احتجاجی مظاہروں پر سخت مؤقف برقرار، آیت اللہ خامنہ ای

👁️ 219 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران تخریب کاروں کے سامنے نہیں جھکے گا، احتجاجی مظاہروں پر سخت مؤقف برقرار، آیت اللہ خامنہ ای

ایران تخریب کاروں کے سامنے نہیں جھکے گا، احتجاجی مظاہروں پر سخت مؤقف برقرار، آیت اللہ خامنہ ای

گٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی/نیوز ایجنسیاں)ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک بھر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تخریب کاروں کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ریاستی رِٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 

تہران میں اپنے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے پیچھے بیرونی طاقتوں کو خوش کرنے کا مقصد کارفرما ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’چند عناصر فساد پھیلا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران ہزاروں قربانیوں کے بعد قائم ہوا ہے اور تخریب کاروں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔‘‘

 

رہبرِ اعلیٰ نے مظاہروں پر امریکی ردعمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اور ایرانی عوام کو انسانی حقوق کا درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگین ہیں۔

 

یہ احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا دوسرا بڑا ردعمل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ پرامن احتجاج ایک حق ہے لیکن احتجاج اور فساد میں واضح فرق ہونا چاہیے، اور تخریب کاروں سے بات چیت بے فائدہ ہے۔

 

اسرائیلی مداخلت کا الزام

 

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے ملک میں جاری مظاہروں کے پیچھے اسرائیل کی مبینہ منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا ہے۔ کونسل کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ مظاہرے ابتدا میں معاشی مطالبات پر مبنی تھے، تاہم اب یہ اسرائیلی رہنمائی میں بدامنی پھیلانے کی کوشش میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

 

بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے ساتھ مل کر ’’اسرائیل اور امریکہ کے بدامنی کے منصوبوں‘‘ کو ناکام بنائیں گے، جبکہ مظاہرین اور فسادی عناصر میں فرق کیا جانا ضروری ہے۔

 

رضا پہلوی کا حکومت پر شدید تنقید

 

ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے مظاہرین کا شکریہ ادا کیا اور حکومت پر انٹرنیٹ بندش، تشدد اور آواز دبانے کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں آزادی کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، جس کے جواب میں حکومت نے مواصلاتی نظام معطل کر دیا ہے۔

 

رضا پہلوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یورپی رہنماؤں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خاموشی توڑیں اور ایرانی عوام کی کھل کر حمایت کریں۔

 

ملک گیر مظاہرے، ہلاکتیں اور گرفتاریاں

 

ایران میں یہ احتجاجی تحریک مسلسل 13 روز سے جاری ہے، جس کا آغاز کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور مہنگائی کے خلاف ہوا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق مظاہرے ملک کے تمام 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں۔

 

ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق اب تک کم از کم 34 مظاہرین، جن میں پانچ بچے شامل ہیں، اور آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2270 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد کم از کم  47 ہے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

 

تشدد، آگ زنی اور انٹرنیٹ بندش

 

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مختلف شہروں میں سرکاری تنصیبات، پولیس گاڑیوں اور بیرکوں کو آگ لگائے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ بعض مقامات پر مساجد کو نذرِ آتش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

 

اصفہان میں سرکاری براڈکاسٹنگ عمارت کے ایک حصے میں آگ لگنے کی تصدیق بی بی سی کے فیکٹ چیک ڈیپارٹمنٹ نے کی ہے، جبکہ یزد، بندر انزلی اور شازند سمیت کئی شہروں میں سڑکوں پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

 

مظاہروں کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ بندش کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جس پر عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

عالمی ردعمل

 

یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا، بیلجیم کے وزیرِاعظم بارٹ دے وور اور آسٹریا کی وزیر خارجہ بیئت مینل ریزنگر سمیت متعدد یورپی رہنماؤں نے ایرانی مظاہرین کی حمایت اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا تو امریکہ ’’سخت کارروائی‘‘ پر غور کر سکتا ہے۔

 

ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو حالیہ برسوں میں حکومت کے خلاف سب سے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیا جا رہا ہے، جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C