21/July/2026

روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت

👁️ 286 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت

روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت

کییف / ماسکو (ڈیلی اردو) روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ یوکرین کی مسلح افواج نے روسی دارالحکومت ماسکو پر اپنے حالیہ بڑے حملے میں 400 سے زائد جنگی ڈرونز استعمال کیے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل روس نے بھی یوکرین کے دارالحکومت کییف سمیت مختلف شہروں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے تھے۔

 

روسی دارالحکومت ماسکو کے میئر نے پیر کو بتایا کہ یوکرینی افواج نے شہر کو نشانہ بنانے کے لیے 400 سے زیادہ مسلح ڈرونز داغے۔ روسی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو تباہ کیا، تاہم حملوں سے متعلق نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

 

دوسری جانب یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے بھی رات بھر کییف اور دیگر شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے۔

 

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 میں روسی فوجی مداخلت کے بعد شروع ہوئی تھی اور چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تنازع ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہا۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہروں، فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل نشانہ بنایا ہے۔

 

ادھر یوکرین داخلی سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حالیہ دنوں میں کابینہ میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے وزیر اعظم سمیت کئی اعلیٰ حکام کو تبدیل کیا، جبکہ وزیر دفاع کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

 

وزیر دفاع کی برطرفی کے بعد دارالحکومت کییف میں سینکڑوں افراد نے احتجاج شروع کر دیا، جو اب بھی جاری ہے۔ مظاہرین حکومتی فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ حکومت سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

 

صدر زیلنسکی نے پیر کے روز کہا کہ وہ سیاسی بحران کے خاتمے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سطح کی بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی تبدیلیوں کے باوجود روس کے خلاف یوکرین کے دفاعی عزم یا جنگی صلاحیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

 

کییف سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صدر زیلنسکی کی کوشش ہے کہ عوام کو یقین دلایا جائے کہ کابینہ میں حالیہ تبدیلیاں قومی سلامتی اور جنگی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہیں، نہ کہ دفاعی پالیسی کو کمزور کرنے کے لیے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق مستقبل قریب میں جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر سکتے ہیں، جبکہ سفارتی کوششوں کے باوجود فوری جنگ بندی کے امکانات بدستور محدود دکھائی دیتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C