ایران جنگ: چین، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان لیزر ہتھیاروں کی دوڑ
👁️ 617 بار دیکھا گیا
ایران جنگ: چین، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان لیزر ہتھیاروں کی دوڑ
برلن (ڈیلی اردو/ ڈی پی اے) ایران جنگ نے خلیجی ریاستوں میں لیزر ہتھیاروں کی مانگ تیزی سے بڑھا دی ہے۔
ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ماہرین نے گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کے دبئی ہوائی اڈے پر ایک چینی ساختہ لیزر نظام دریافت کیا۔ یہ لیزر سسٹم ایک گاڑی پر نصب ہے اور ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پہلے سے اسرائیلی ساختہ لیزر نظام ''آئرن بیم‘‘ موجود ہے، جو اسرائیل نے بظاہر امارات کو عاریتاً دیا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات ایک امریکی لیزر ویپن سسٹم خریدنے کی بھی کوشش کر رہا ہے اور اس نے یورپی و امریکی کمپنیوں کے ساتھ ایک اپنا لیزر ویپن سسٹم مشترکہ طور پر تیار کرنے کے معاہدے بھی کیے ہیں۔
2025 کے اواخر میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی نے فوجی سازوسامان کی ترسیل کی تصاویر شائع کیں، جن سے غیر ارادی طور پر یہ انکشاف ہوا کہ عُمان بھی چینی ساختہ لیزر ہتھیاروں کا خریدار ہے۔گزشتہ برس ستمبر میں اسرائیلی حملے کے بعد قطر بھی ترک فضائی دفاعی نظام ''اسٹیل ڈوم‘‘ کے کچھ اجزاء حاصل کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں لیزر ہتھیار بھی شامل ہیں۔
اُدھر سعودی عرب میں بھی فوج چینی ساختہ لیزر نظاموں کی آزمائش کر رہی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے چین کے ''سائلنٹ ہنٹر‘‘ کے آٹھ یونٹ تک خریدے ہیں اور امریکی لیزر ہتھیار خریدنے پر بھی غور کر رہا ہے۔ 'اسٹار وار‘ حقیقت بن رہی ہے
لیزر ہتھیار سائنسی داستانوں کا حصہ لگتے تھے لیکن ایران جنگ انہیں حقیقی تنازعات میں عام استعمال کے قریب لا رہی ہے۔ یہ بات دفاعی صحافی جیرڈ کیلر نے کہی، جو ''لیزر وارز‘‘ نامی نیوزلیٹر چلاتے ہیں اور اسی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں لکھا کہ اپریل اور مئی کے دوران عالمی سطح پر لیزر ہتھیاروں کی ترقی کی رفتار اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
انہوں نے مزید کہا، ''متحدہ عرب امارات آہستہ آہستہ دنیا میں لیزر ہتھیاروں کی مصروف ترین منڈی بنتا جا رہا ہے،‘‘ کیونکہ اس کے پاس اب دو مختلف اقسام کے لیزر نظام موجود ہیں اور وہ تیسرا خرید رہا ہے۔
کیلر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہم اس مقام پر آ گئے ہیں، جہاں کئی عوامل یکجا ہو کر لیزر ہتھیاروں کو عام کر رہے ہیں، جن میں سے ایک ٹیکنالوجی کی پختگی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امریکی فوج نے 1973ء میں پہلی بار آزمائشی طور پر لیزر سے ڈرون مار گرایا تھا اور تب سے اس ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے لیکن اب لیزر ہتھیار زیادہ چھوٹے اور بہتر ہو گئے ہیں۔
لیزر ''براہ راست توانائی ‘‘ کے اخراج والے ہتھیاروں کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس زمرے میں ہائی انرجی لیزر شامل ہیں، جن کی شعاع اہداف کو نقصان پہنچانے یا ناکارہ کرنے کے کام آتی ہے۔ اس میں ''ہائی پاور مائیکروویو ہتھیار‘‘ بھی شامل ہیں، جو مائیکروویو کی لہریں خارج کر کے اہداف میں اندرونی خرابی پیدا کرتے ہیں۔
کیلر کے مطابق دوسری وجہ جنگ میں ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ انہوں نے کہا، ''بغیر پائلٹ ڈرون جنگ کے پھیلاؤ نے روایتی جنگی معاشیات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔‘‘ یعنی محض چند سو ڈالر میں بننے والے سستے ڈرون کو لاکھوں یا کروڑوں ڈالر مالیت کے میزائل سے مار گرانا کسی طور سود مند نہیں۔
انہوں نے کہا، ''یہ ایک ناپائیدار صورتحال ہے، خاص طور پر، جب یہ ڈرون تیزی سے بڑی تعداد میں بنائے اور بآسانی استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ میزائل بنانے میں کافی وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر کی حکومتیں کم خرچ متبادل تلاش کر رہی ہیں۔‘‘
مثال کے طور پر ہائی انرجی لیزر ہتھیاروں کے مینوفیکچررز اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر فائر پر صرف تین سے پانچ ڈالر لاگت آتی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ ایران جنگ نے لیزر ہتھیاروں کی مانگ کی نوعیت بدل دی ہے۔ اگرچہ یوکرین میں روسی ڈرون حملوں کے خلاف بھی لیزر ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور روس کے پاس بھی بظاہر کچھ موجود ہیں لیکن ایران جنگ پہلا موقع ہے، جب امریکی فوج، خلیج میں اس کے اتحادیوں اور اسرائیل کو اس انداز میں ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کیلر نے کہا، ''ایران جنگ نے ڈرون جنگ کو گھر کے قریب لے آئی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مارچ کی ایک کانفرنس میں امریکی دفاعی اعلیٰ حکام نے کہا کہ وہ اگلے تین برسوں میں بڑے پیمانے پر لیزر ہتھیار نصب کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ''جو بھی ملک اپنے ہمسائے سے فوری خطرے میں ہو، وہ ان نظاموں کو جلد از جلد حاصل کرنا چاہے گا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستوں میں لیزر ہتھیار تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
تاہم کیلر کا کہنا ہے کہ لیزر ہتھیار کوئی ''جادوئی حل‘‘ نہیں ہیں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے یہ ہتھیار ایک وسیع تر اور کثیر الجہتی فضائی دفاعی نظام کے حصے کے طور پر سب سے زیادہ مفید ثابت ہوں گے۔
اس کی وجہ لیزر کی اپنی کچھ خامیاں ہیں۔ لیزر کی شعاع سیدھی لکیر میں چلتی ہے، اسے صرف ایک مخصوص فاصلے تک استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً اسرائیل کے آئرن بیم یونٹ کی زد صرف 10 کلومیٹر تک ہے اور مؤثر ہونے کے لیے اسے ایک مقررہ وقت تک ہدف پر مرکوز رکھنا پڑتا ہے۔ تیز رفتار ڈرون کی صورت میں یہ ''ٹھہراؤ ‘‘ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
لیزر کی شعاع کو نمی، بارش، دھند، کہرا، برف، ریت، گرد اور سمندری پھوار جیسے عوامل بھی منتشر یا کمزور کر سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی شدید گرمی بھی لیزر کے حساس پرزوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور انہیں چلانا مشکل بنا دیتی ہے کیونکہ ٹھنڈا رکھنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے چینی ساختہ لیزر کی آزمائش کے دوران انہی مسائل کی شکایت کی ہے۔
اس سے قبل خاصی توقعات کے باوجود اسرائیل کا آئرن بیم لیزر سسٹم ابھی تک ایران جنگ میں پوری طرح استعمال نہیں ہوا۔ اس کے ایک ورژن نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کے داغے گئے ڈرون مار گرائے ہیں لیکن اسرائیلی فضائیہ کے مطابق اس لیزر کو مؤثر ہونے کے لیے کم از کم 14 مزید بیٹریوں کی ضرورت ہے، جو فی الحال ملک کے پاس نہیں ہیں۔
لیزر وارز کے بانی کیلر کے مطابق یہی وجہ ہے کہ 100 کلو واٹ کا آئرن بیم لیزر سسٹم متحدہ عرب امارات کو بھیجنا ''ایک عملی و تکتیکی اقدام سے زیادہ ایک سفارتی چال ہو سکتی ہے۔‘‘
مشرق وسطیٰ میں لیزر ہتھیاروں کے حوالے سے جیو پولیٹیکل پہلو بھی واضح طور پر موجود ہے۔
کنگز کالج لندن کے اسکول آف سکیورٹی اسٹڈیز میں سینئر لیکچرار آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرح مختلف ذرائع سے لیزر ہتھیار خریدنا خلیجی ریاستوں کے لیے اپنے دفاع کو متنوع بنانے کا ایک طریقہ ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ مختصر مدت میں یہ انحصار ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن درمیانی اور طویل مدت میں خلیجی ریاستوں کو خود کفالت بڑھانے کے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔‘‘
ایران اور جیسا کہ سعودی اعلیٰ قیادت نے اس ہفتے کہا کہ اسرائیل سے خطرہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہے گا۔
کریگ نے کہا، ''یہ بات واضح ہے کہ انہیں سفارت کاری کے ساتھ ساتھ ایران کو تجارت اور استحکام میں خلل ڈالنے کا موقع دینے سے روکنے کی مضبوط صلاحیت بھی پیدا کرنی ہو گی۔ اس کا ایک راستہ یہ ہے کہ ایک زیادہ خود کفیل فضائی دفاعی چھتری بنائی جائے، جو امریکی اسلحے پر کم انحصار کرے کیونکہ امریکی اسلحہ حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں سے پاکستان کے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ
18/July/2026 👁️ 143 بار دیکھا گیا
بنوں میں سکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 24 دہشت گرد ہلاک
18/July/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
ایران پر امریکی حملوں کا ساتواں روز، 38 افراد ہلاک، 400 سے زائد زخمی
18/July/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
امریکی حملے بند ہونے تک جوابی کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
18/July/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ، 8 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی
17/July/2026 👁️ 335 بار دیکھا گیا
بنوں میں تین نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد
17/July/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8949 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4790 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3564 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 2773 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2556 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2312 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C