06/July/2026

ایران: علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہ ہوئے

👁️ 56 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران: علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہ ہوئے

ایران: علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہ ہوئے

تہران (ڈیلی اردو) امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ہلاک کیے گئے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اتوار کے روز تہران میں ادا کی گئی، جس میں ان کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای نے شرکت کی، تاہم ان کے جانشین اور چوتھے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں موجود نہیں تھے۔

 

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای کو تہران کی امام خمینی گرینڈ مصلیٰ کے وسیع صحن میں اپنے والد کے تابوت کے سامنے پہلی صف میں نمازِ جنازہ ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کسی مرحلے پر بھی دکھائی نہیں دیے۔

 

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق نمازِ جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نمازِ جنازہ ہوئی، جبکہ تیسرے مرحلے میں ان کی 14 ماہ کی نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

 

نمازِ جنازہ کے بعد تقریب کے منتظمین نے شرکاء سے آیت اللہ علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے نعرے لگوائے۔

 

ایرانی حکومت نے سابق سپریم لیڈر کی تدفین کے سلسلے میں ایک ہفتے پر محیط سوگواری اور جنازے کی تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ حکام کے مطابق میت کو عراق کے مقدس شیعہ مقامات پر بھی لے جایا جائے گا، جس کے بعد انہیں ایران میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

 

اس سے قبل سینئر ایرانی حکام اور غیر ملکی شخصیات کو تعزیت کا موقع فراہم کرنے کے لیے آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت ایک روز تک اندرونی ہال میں رکھا گیا، بعد ازاں اسے عوامی دیدار کے لیے گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور نواسی کے تابوت بھی رکھے گئے تھے۔

 

مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی۔ وہ اپنے والد کی ہلاکت کے بعد ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر کیے گئے تھے، تاہم جنگ کے آغاز سے اب تک نہ تو ان کی کوئی نئی عوامی تصویر یا ویڈیو جاری کی گئی ہے اور نہ ہی وہ کسی عوامی تقریب میں نظر آئے ہیں۔

 

اطلاعات کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے دوران، جن میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد ہلاک ہوئے، مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے تھے۔

 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں ان کے چہرے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک یا دونوں ٹانگوں پر بھی سنگین چوٹیں آئیں۔

 

یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا نہ ہی ان کی کوئی آڈیو یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C