05/July/2026

ایران: مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرینگے

👁️ 66 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران: مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرینگے

ایران: مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرینگے

تہران (ڈیلی اردو) ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے ہمراہ ہلاک ہونے والے اہل خانہ کے سوگ میں قومی سطح پر تقریبات جاری ہے۔

 

علی خامنہ ای کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے آغاز میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

 

اس سلسلے میں ہفتے کی صبح سویرے سے ہی بڑی تعداد میں شہری دارالحکومت تہران میں گرینڈ مصلیٰ مسجد پہنچنا شروع ہوئے، جہاں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی پر اس تقریب کی براہ راست نشریات بھی جاری ہیں۔

 

تہران میں یہ سوگواری تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔ اس کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو قم اور بعد ازاں عراق منتقل کیا جائے گا، جہاں سے تدفین کے لیے انہیں ان کے آبائی شہر مشہد لے جایا جائے گا۔

 

آیت اللہ علی خامنہ ای 86 برس کی عمر میں 28 فروری کو تہران میں امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کئی ہفتوں تک شدید لڑائی جاری رہی، جس میں ایرانی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ سمیت خطے میں موجود دیگر مسلح گروہ بھی شریک ہوئے۔ بعد ازاں اپریل کے آغاز میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

 

سپریم لیڈر کی حیثیت سے آیت اللہ خامنہ ای ایران کی اعلیٰ ترین سیاسی اور مذہبی شخصیت تھے اور تمام اہم فیصلوں کا حتمی اختیار انہی کے پاس تھا۔

 

مبصرین کی نظریں اس بات پر بھی مرکوز ہیں کہ آیا ان تقریبات میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای شرکت کرتے ہیں یا نہیں، جنہیں اپنے والد کی وفات کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد سمیت دیگر پانچ افراد ہلاک ہوئے، اور تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔

 

ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور دیگر اہل خانہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے، جبکہ بعض رپورٹس میں اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی گئی ہے۔

 

خامنہ ای اور انکی خاندان کی نمازِ جنازہ مختلف شہروں میں مرجع تقلید (شیعہ مسلک کے وہ علماء جن کی پیروی کی جاتی ہے) کی امامت میں ادا کی جا رہی ہے۔

 

جعفر سبحانی تبریزی تہران میں، ناصر مکارم شیرازی قم میں اور حسین نوری ہمدانی مشہد میں نمازِ جنازہ کی امامت کر رہے ہیں۔

 

ایران کی سرکاری میڈیا کے مطابق جنازے کے انتظامی سیکریٹری علی اکبر نے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی شرکت کا فیصلہ خاندان کے اختیار میں ہے اور کسی بھی حتمی اعلان کی صورت میں اس کا باضابطہ اعلان ان کے دفتر سے کیا جائے گا۔

 

ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ حکام نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

 

مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود نے بھی سابق سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ درجنوں ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔

 

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای دیگر کے ساتھ ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد ایران نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔

 

یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا نہ ہی ان کی کوئی آڈیو یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C