05/July/2026

بھارت نے 17 پاکستانیوں سمیت 23 افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا

👁️ 108 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت نے 17 پاکستانیوں سمیت 23 افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا

بھارت نے 17 پاکستانیوں سمیت 23 افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا

نئی دہلی (ڈیلی اردو رہورٹ) بھارت کی وزارتِ داخلہ نے انسداد دہشت گردی کے قانون غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت 23 افراد کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی نامزدگیوں کے بعد اس قانون کے تحت دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 80 ہو گئی ہے۔

 

بھارتی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے مطابق فہرست میں شامل 23 افراد میں 17 پاکستانی شہری اور 6 بھارتی شہری شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام نامزد افراد اس وقت پاکستان یا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے سرگرم ہیں۔

 

وزارتِ داخلہ کے مطابق نامزد افراد پر بھارت میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، بھرتی، تربیت، دراندازی، لاجسٹک معاونت، مالی معاونت، اسلحے کی فراہمی، ڈرونز کے ذریعے ہتھیار پہنچانے اور دیگر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

 

نامزد افراد میں بنگلورو سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ سافٹ ویئر انجینئر محمد شہید فیصل بھی شامل ہیں، جو بھارتی حکام کے مطابق اس وقت راولپنڈی، پاکستان میں مقیم ہیں۔ وزارتِ داخلہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق کالعدم لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد سے ہے، جبکہ انہیں دیگر شدت پسند نیٹ ورکس سے بھی منسلک قرار دیا گیا ہے۔

 

بھارتی حکام کے مطابق محمد شہید فیصل پر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو بھرتی کرنے، پاکستان میں اسلحے کی تربیت کا انتظام کرنے، دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے، خفیہ مواصلاتی طریقوں اور جعلی شناختوں کی تربیت دینے، اور مختلف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے اسلحہ و گولہ بارود کی ترسیل میں معاونت کے الزامات ہیں۔

 

بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے مطابق محمد شہید فیصل کو یکم مارچ 2024 کو بنگلورو کے رامیشورم کیفے میں ہونے والے آئی ای ڈی دھماکے کے مبینہ ماسٹر مائنڈز میں شامل ایک دہشت گرد ماڈیول کا ہینڈلر قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ 2012 سے مطلوب ہیں اور ان کی گرفتاری پر 10 لاکھ بھارتی روپے انعام مقرر ہے۔

 

یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد قرار دیے گئے دیگر پانچ بھارتی شہریوں کا تعلق جموں و کشمیر سے بتایا گیا ہے، جن میں فردوس احمد بھٹ، ہارون رشید گنائی عرف "شنو"، بلال احمد میر عرف "احمد بھائی"، عابد قیوم لون اور نذیر احمد گجر عرف "منزل" شامل ہیں۔

 

بھارتی وزارتِ داخلہ نے متعدد دیگر افراد کو بھی نامزد کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ مختلف عسکریت پسند نیٹ ورکس کے لیے بھرتی، دراندازی، سرحد پار لاجسٹک معاونت، ڈرونز کے ذریعے اسلحے کی ترسیل اور جموں و کشمیر میں حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔

 

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 2019 میں یو اے پی اے میں کی گئی ترمیم کے تحت کیا گیا، جس کے بعد حکومت کو تنظیموں کے ساتھ ساتھ افراد کو بھی براہِ راست دہشت گرد قرار دینے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ اس قانون کے تحت نامزد افراد کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، ان کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

 

پاکستان کی جانب سے بھارتی حکومت کے اس اقدام پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C