11/June/2026

ایران میں امریکی فضائی حملوں کے بعد پانی کا بحران شدید

👁️ 348 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں امریکی فضائی حملوں کے بعد پانی کا بحران شدید

ایران میں امریکی فضائی حملوں کے بعد پانی کا بحران شدید

تہران (ڈیلی اردو) ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کے روز رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد جنوبی بندرگاہی شہر سرک میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، اور ہزاروں افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہو گئے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق  امریکہ نے جنوبی علاقوں جاسک، سرک اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ  قشم پر حملے کیے۔ ان حملوں کے بعد واشنگٹن نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیج کے پانیوں میں ایک امریکی  اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔

 

ان حملوں کے نتیجے میں دو اہم آبی ذخائر تباہ ہو گئے، جو سرک شہر کے ضلع بیمانی اور ایران کے صوبہ ہرمزگان کے ضلع سرک میں واقع ایک ساحلی شہر کوہستک کو پانی فراہم کرتے تھے۔

 

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ’’اس حملے کے بعد تقریباً 20 ہزار افراد پینے کے صاف پانی تک رسائی کھو بیٹھے ہیں۔‘‘

 

شدید گرمی نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں درجہ حرارت 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے، جس کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے اور شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ذخائر کی تباہی سے پورے علاقے کے پانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ متبادل کے طور پر دستیاب گراؤنڈ واٹر بھی ناکافی ہے۔

 

صوبہ ہرمزگان کی واٹر کمپنی کے سینیئر اہلکار عبدالحمید حمزہ پور کے مطابق، ’’متاثرہ دیہات کے لیے متبادل پانی کے ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں اور

ہنگامی بنیادوں پر صورتحال پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔‘‘

 

ایران نے ان امریکی حملوں کو ’’جھوٹے بہانے‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

 

تہران کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کا ہدف بحرین، اردن اور کویت میں موجود امریکی اڈے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C