03/July/2026

ایران میں سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا آغاز

👁️ 25 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا آغاز

ایران میں سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا آغاز

تہران (ڈیلی اردو رپورٹ) ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کا جسد خاکی جمعے کے روز سرکاری نمازِ جنازہ سے قبل تہران کے مصلیٰ امام خمینی منتقل کیا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

 

سرکاری طور پر جاری تصاویر میں قومی پرچم میں لپٹے آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کو مصلیٰ امام خمینی کے احاطے میں لے جایا جاتا دکھایا گیا، جبکہ سیاہ لباس میں ملبوس سوگوار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ تابوت کے اطراف سرخ پھولوں اور سفید سجاوٹ کا اہتمام بھی کیا گیا۔

 

ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے باعث مؤخر کی جانے والی سرکاری آخری رسومات کا سلسلہ ہفتہ 4 جولائی سے شروع ہو چکا ہے اور مختلف تقریبات کئی روز تک جاری رہیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان رسومات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جو ایران کی تاریخ کی سب سے بڑی سرکاری تدفینی تقریبات میں شمار ہو سکتی ہے۔

 

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں رسومات میں شریک ہو کر سابق رہبرِ اعلیٰ کو خراجِ عقیدت پیش کریں۔

 

ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سے کم از کم آٹھ سربراہانِ مملکت، بارہ پارلیمانوں کے اسپیکرز اور متعدد ممالک کے وزرا اور خصوصی نمائندے ان رسومات میں شرکت کر رہے ہیں۔ عراق، تاجکستان اور جارجیا کے صدور کے علاوہ پاکستان اور آرمینیا کے وزرائے اعظم بھی تہران پہنچے۔

 

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد نے بھی نمازِ جنازہ اور تعزیتی تقریبات میں شرکت کی۔ 

 

وزیراعظم آفس کے مطابق وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات شامل تھیں۔

 

وزیراعظم شہباز شریف نے سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک غیر معمولی بصیرت، حکمت اور دوراندیشی کے ساتھ ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔

 

دوسری جانب افغانستان سے طالبان حکومت اور اس کے سیاسی مخالفین دونوں نے رسومات میں شرکت کی۔ طالبان وفد کی قیادت نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اخوند اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی، جبکہ افغانستان کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود اور حزبِ وحدتِ اسلامی افغانستان کے رہنما محمد محقق بھی تعزیتی تقریب میں شریک ہوئے۔

 

حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی تین روز تک مصلیٰ امام خمینی میں عوام کے دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جہاں ان کی تصاویر اور اقوال پر مشتمل بینرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ حملوں میں ہلاک ہونے والے ان کے قریبی رشتہ داروں کی میتیں بھی عوام کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

 

ایرانی حکومت نے تہران، قم اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ تہران میں ہفتہ سے پیر تک سرکاری اور نجی دفاتر بند رہیں گے، جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق جمعے سے تہران کی فضائی حدود جزوی جبکہ پیر کے روز مکمل طور پر بند رہیں گی۔

 

سرکاری منصوبے کے مطابق تہران میں تعزیتی تقریبات کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسد خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد 9 جولائی کو شمال مشرقی ایرانی شہر مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ مشہد ہی آیت اللہ علی خامنہ ای کا آبائی شہر بھی تھا۔

 

دریں اثنا، نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی مرکزی تقریب میں شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

 

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حبیب حسینی فرد نے بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس تقریب کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی سیاسی اور سفارتی حیثیت کو اجاگر کرنا چاہتا ہے، تاہم شریک ممالک کے وفود کی سطح سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کو اس حوالے سے محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 

 

ان کے مطابق اگر حکومت عوام کی بڑی تعداد کی شرکت دکھانے میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ اسے اپنی عوامی حمایت اور سیاسی قوت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C