04/November/2026

ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا امکان؟ ٹرمپ کی فوری کارروائی کے منصوبے کی تردید، ایرانی ٹی وی پر ایٹمی حملے سے بچاؤ کی ہدایات نشر

👁️ 63 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا امکان؟ ٹرمپ کی فوری کارروائی کے منصوبے کی تردید، ایرانی ٹی وی پر ایٹمی حملے سے بچاؤ کی ہدایات نشر

ایران پر امریکی ایٹمی حملے کا امکان؟ ٹرمپ کی فوری کارروائی کے منصوبے کی تردید، ایرانی ٹی وی پر ایٹمی حملے سے بچاؤ کی ہدایات نشر

واشنگٹن/تہران (ڈیلی اردو) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کا فی الحال ایران پر نئے حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں، تاہم امریکی فوج ضرورت پڑنے پر کارروائی کے لیے مکمل تیار ہے۔ دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر شہریوں کو ممکنہ ایٹمی دھماکے کی صورت میں محفوظ رہنے اور تابکاری سے بچاؤ کے طریقے بتانے والی ویڈیو نشر کیے جانے کے بعد خطے میں جوہری حملے کے خدشات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی آپریشن اور زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے امکانات پر مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ٹرمپ نے 3 نومبر کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور واشنگٹن کو بظاہر وہ کچھ حاصل ہو رہا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوری طور پر نئے حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، تاہم امریکی فوج کو ضرورت پڑنے پر کارروائی کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ پہلے کیے گئے حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم زیرِ زمین موجود افزودہ یورینیم کے معاملے پر ابھی اتفاقِ رائے درکار ہے۔ انہوں نے اس بارے میں کسی نئے فوجی منصوبے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

ایران کے جزیرے قشم پر امریکی حملہ اور نئے آپریشن کا امکان

امریکی صدر کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 2 نومبر کو امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم کے قریب فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو محدود اور دفاعی نوعیت کا قرار دیا، جبکہ ٹرمپ نے بعد ازاں ایران کی ایک طیارہ شکن تنصیب تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

ایرانی حکام نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق جب تک فوجی حملوں کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، ایران دفاعی حالت میں رہے گا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا منصوبہ تیار کر رکھا ہے، تاہم فوجی منصوبہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ صدر نے حملے کا حتمی حکم دے دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر ایٹمی حملے سے بچاؤ کی ویڈیو

دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن اور سرکاری ذرائع ابلاغ پر شہریوں کے لیے تقریباً آٹھ منٹ پر مشتمل ایک حفاظتی ویڈیو نشر کی گئی، جس میں ایٹمی دھماکے کی صورت میں جان بچانے، محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنے اور تابکاری سے متاثر ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔

ویڈیو میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دھماکے کی تیز روشنی کو براہِ راست نہ دیکھیں اور اگر وہ کھلے مقام پر موجود ہوں تو فوری طور پر کسی مضبوط عمارت یا محفوظ رکاوٹ کی آڑ لیں۔ دھماکے کی ابتدائی لہر گزرنے کے بعد قریبی عمارت میں پناہ لینے، گاڑی کے اندر رکنے سے گریز کرنے اور کھڑکیوں و بیرونی دیواروں سے دور رہنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

گھروں اور عمارتوں کے اندر موجود افراد کو تہہ خانے یا عمارت کے مرکزی حصے میں جانے، دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے اور باہر سے ہوا کھینچنے والے ایئرکنڈیشنر اور ہوا کی آمدورفت کے نظام بند کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ویڈیو میں تابکار گردوغبار سے بچنے کے لیے متاثرہ بیرونی کپڑے احتیاط سے اتار کر بند تھیلی میں رکھنے، جلد کو پانی اور صابن سے دھونے اور آلودگی کے شبہے کی صورت میں بوتل بند پانی اور پیک شدہ خوراک استعمال کرنے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔ شہریوں کو کم از کم 24 گھنٹے محفوظ مقام پر رہنے اور حکام کی اجازت کے بغیر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ ویڈیو شہری دفاع اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کے تناظر میں نشر کی گئی ہے۔ اس کا نشر ہونا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر ایٹمی حملے کا فیصلہ کر لیا ہے یا ایسا حملہ قریب ہے۔

ایران پر ایٹمی حملے کی خبریں کہاں سے شروع ہوئیں؟

ایران پر ممکنہ امریکی ایٹمی حملے سے متعلق حالیہ بحث کو امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے ان دعوؤں نے بھی ہوا دی جن میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر پر ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیب کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور اس سلسلے میں ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا امکان بھی زیرِ بحث ہے۔

کارلسن کے دعوے کے مطابق ایران میں پِک ایکس ماؤنٹین کے مقام پر واقع زیرِ زمین جوہری تنصیب کو روایتی ہتھیاروں سے تباہ کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے بعض حصے پہاڑ کے اندر گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور امریکی حکومت نے ایٹمی حملے کی تیاری یا اس کی منظوری کا کوئی مصدقہ اعلان نہیں کیا۔

دفاعی امور کے بعض تجزیہ کاروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کسی ملک کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق دہائیوں پر قائم پابندی اور سیاسی و اخلاقی رکاوٹ کمزور پڑ سکتی ہے۔

روس اور یوکرین کے معاملے میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خدشہ

اس بحث کا ایک اہم پہلو روس اور یوکرین کی جنگ بھی ہے۔ دفاعی امور کے بعض تجزیوں میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو روس اسے ایک مثال یا سیاسی جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

دفاعی تجزیاتی ویب سائٹ ڈیفنس 24 کی 2 نومبر کی ایک رپورٹ میں بھی اسی خطرے کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ روسی حکام نے کم از کم دو دیگر حکومتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر ایٹمی حملہ کرتا ہے تو ماسکو کے لیے یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم اس مبینہ پیغام کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی اور اسے روس کی جانب سے کسی باضابطہ اعلان یا حملے کے فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

روس کی نومبر 2024 میں اپ ڈیٹ کی گئی جوہری پالیسی کے مطابق بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے حملے یا روایتی ہتھیاروں کے ذریعے روس کی خودمختاری کو سنگین خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس پالیسی میں بیلاروس کے تحفظ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ماسکو یوکرین جنگ میں مغربی ممالک کی فوجی معاونت کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ روس نے یوکرین پر ایٹمی حملے کا باضابطہ فیصلہ یا اعلان کر دیا ہے۔

اس معاملے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ روس اپنی جوہری پالیسی کے تحت مخصوص حالات میں ہتھیار استعمال کرنے کا حق بیان کرتا ہے، جبکہ ایران پر امریکی ایٹمی حملے کی صورت میں روس کو ممکنہ جواز ملنے کا خدشہ فی الحال دفاعی تجزیہ کاروں کی تشویش اور غیر مصدقہ سفارتی دعوے کا حصہ ہے۔

ایران کی اپنی جوہری پالیسی پر بھی بحث

ایران میں بھی جوہری ہتھیاروں سے متعلق پالیسی پر بحث سامنے آئی ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے 31 اکتوبر کو کہا تھا کہ ملک میں جوہری ہتھیار نہ بنانے سے متعلق دیرینہ پابندی برقرار رکھنے یا اس پر نظرثانی کے معاملے پر بحث ہو رہی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی ممکنہ نئے حملوں کی صورت میں وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایک طرف واشنگٹن فوری نئے حملے کا منصوبہ نہ ہونے کا اعلان کر رہا ہے اور مذاکرات جاری رکھنے کا اشارہ دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی دفاعی تیاریوں اور جوابی کارروائی کے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔ ایرانی ٹیلی ویژن پر ایٹمی ہنگامی صورتحال سے متعلق ہدایات اور روسی جوہری پالیسی پر اٹھنے والے سوالات نے اس کشیدگی کو عالمی سلامتی کے ایک وسیع تر معاملے میں تبدیل کر دیا ہے۔ 

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C