19/September/2025

ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے کا امکان

👁️ 383 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے کا امکان

ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ نافذ ہونے کا امکان

نیو یارک (ڈیلی اردو) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جمعہ کے روز ایران کے جوہری پروگرام کے مدنظر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے ووٹنگ کرے گی۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے توڑ دیے ہیں۔

 

نیو یارک میں شیڈول ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ہو گی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، مسودہ قرارداد کو موجودہ معطلی کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے درکار نو ووٹ حاصل نہیں ہوں گے، جس کے نتیجے میں ایران پر دوبارہ پابندیاں نافذ ہو جائیں گی۔

 

روس اور چین، جو پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہیں، کو 15 رکنی کونسل میں نو ووٹ درکار ہوں گے، لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق یہ تقریباً ناممکن ہے۔

 

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے جمعرات کو ایک اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ رواں ماہ کے آخر تک ایران پر بین الاقوامی پابندیاں بحال ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا، ’’ایران کی طرف سے ملنے والی تازہ ترین معلومات سنجیدہ نہیں ہیں۔‘‘

 

برطانیہ، فرانس اور جرمنی، جو 'یورپی تین' یا 'ای تھری' کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے اگست کے وسط میں اقوام متحدہ کو ارسال کردہ ایک خط میں الزام لگایا تھا کہ ایران نے معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس میں یورینیم کے ذخائر مقررہ حد سے 40 گنا زیادہ بڑھانے کا بھی ذکر ہے۔

 

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار رچرڈ گوان کے مطابق، ’’الجزائر اور پاکستان ممکنہ طور پر روس اور چین کی حمایت کریں گے، لیکن دیگر اراکین مخالفت یا غیر حاضری اختیار کریں گے، لہٰذا یورپی ممالک اور امریکہ کو ویٹو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اور یورپی ممالک آخری لمحے میں کوئی سمجھوتہ کر لیں تو کونسل کے پاس پابندیوں کی معطلی میں توسیع کے لیے بھی وقت موجود ہے۔

 

دریں اثنا ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہوں نے ’’ایک معقول اور عملی منصوبہ‘‘ یورپی تین اور یورپی یونین کے ہم منصبوں کے سامنے رکھا ہے تاکہ ’’آنے والے دنوں میں غیر ضروری اور قابل اجتناب بحران‘‘ سے بچا جا سکے۔ عراقچی نے اس تجویز کو ’’حقیقی خدشات کو دور کرنے والا اور باہمی فائدہ مند‘‘ قرار دیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

سن 2015 کا جوہری معاہدہ اس وقت غیر مؤثر ہو چکا ہے جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اسے یک طرفہ طور پر ترک کر کے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں۔ مغربی طاقتیں اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران نے اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کیا اور جوہری سرگرمیاں تیز کر دیں۔ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ کشیدگی کے بعد حالات مزید خراب ہوئے، جس نے ایران اور عالمی جوہری ادارے (IAEA) کے درمیان جاری مذاکرات کو بھی متاثر کیا۔ ایران نے معائنہ کاروں کے واپس جانے کے بعد دھمکی دی ہے کہ اگر پابندیوں کا خودکار نظام (اسنیپ بیک) فعال ہوا تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C