26/September/2026

ایران کی سعودی عرب اور حوثی باغیوں میں مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش

👁️ 54 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کی سعودی عرب اور حوثی باغیوں میں مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش

ایران کی سعودی عرب اور حوثی باغیوں میں مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش

تہران(ڈیلی اردو) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران فریقین کے درمیان اختلافات کم کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن سے متعلق جاری تنازع کو جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پزشکیان نے کہا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی کارروائیوں کا ایران سے تعلق نہیں اور تہران کسی جنگ کا خواہاں نہیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور کہا کہ ایک مسلمان ملک کو دوسرے مسلمان ملک کے خلاف لڑنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

ایرانی صدر نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے اپنے خطے کی سکیورٹی مضبوط بنانی چاہیے اور کسی بیرونی ’’علاقائی پولیس مین‘‘ کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب خطے اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

امریکا کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پزشکیان نے کہا کہ تہران کو واشنگٹن پر اعتماد نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ قطر اور پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس دوران امریکا کے سامنے سات روزہ منصوبہ پیش کیے جانے کی تفصیلات بھی بتائی ہیں۔ ایرانی تجویز کے مطابق ابتدائی اقدامات چار سے پانچ دن میں مکمل کیے جانے تھے، چھٹے روز آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھولنا اور ساتویں روز جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا شامل تھا۔ منصوبے میں امریکی بحری ناکا بندی ختم کرنے، ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔

تاہم تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روزہ تجویز مسترد کردی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کا مستقبل غیر یقینی ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو جنگ کے خاتمے اور امریکی اقدامات سے جوڑ رہا ہے۔

پزشکیان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر کہا کہ اگر مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے پر اتفاق ہوجاتا ہے تو تجارتی جہاز رانی کے لیے راستہ دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام بھی عائد کیا، تاہم یہ مؤقف ایرانی صدر کا اپنا بیان ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C