25/January/2026

برطانیہ نے افغانستان میں فوج بھیجی، مگر فرنٹ لائن سے پیچھے رہے، ٹرمپ کا دعویٰ

👁️ 188 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
برطانیہ نے افغانستان میں فوج بھیجی، مگر فرنٹ لائن سے پیچھے رہے، ٹرمپ کا دعویٰ

برطانیہ نے افغانستان میں فوج بھیجی، مگر فرنٹ لائن سے پیچھے رہے، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن/لندن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان میں نیٹو افواج، بالخصوص برطانوی فوج کے کردار سے متعلق بیان پر برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جب کہ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اور شہزادہ ہیری نے اس بیان کو توہین آمیز اور تکلیف دہ قرار دیا ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’وہ کہیں گے کہ اُنھوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے… اُنھوں نے ایسا کیا… لیکن وہ کچھ پیچھے رہے… وہ فرنٹ لائنز سے کچھ پیچھے رہے۔‘‘

 

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو کبھی ان افواج کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی کبھی ان سے کسی چیز کے لیے کہا گیا۔

 

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار اور قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ اور نیٹو افواج نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ طور پر کارروائیاں کیں، جب کہ برطانیہ نے بھی امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے بڑی تعداد میں فوجی افغانستان بھیجے تھے۔

 

صدر ٹرمپ کے بیان پر برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’’توہین آمیز اور خوفناک‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ کو احساس ہوا کہ انہوں نے غلط بات کی ہے تو انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے۔

 

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اپنی افواج کی ہمت، بہادری اور ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ ان کے مطابق بہت سے فوجی زخمی ہوئے اور کچھ ایسے زخموں کا شکار ہوئے جنہوں نے ان کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔

کیئر سٹارمر کا کہنا تھا،

 

’’میں صدر ٹرمپ کے ریمارکس کو توہین آمیز اور واضح طور پر خوفناک سمجھتا ہوں اور مجھے کوئی تعجب نہیں کہ ان الفاظ نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے اہلِ خانہ سمیت پورے ملک کو تکلیف پہنچائی ہے۔‘‘

 

برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی حکومتوں نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ، جو خود افغانستان میں فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے 33 ہزار پولینڈ کے فوجیوں میں شامل تھے، نے کہا کہ کسی کو بھی پولینڈ کے فوجیوں کی خدمات کا مذاق اڑانے کا حق حاصل نہیں۔

 

کینیڈا کے وزیر برائے قومی دفاع ڈیوڈ جے میک گینٹی نے کہا کہ کینیڈین فوجی افغانستان میں پہلے دن سے ہی محاذِ جنگ پر موجود تھے اور انہوں نے قندھار میں اتحادی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے 158 فوجیوں کی جانیں گنوائیں۔

 

اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے قبل مجموعی طور پر 3500 اتحادی فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 2461 امریکی اور 457 برطانوی فوجی شامل تھے۔

 

افغانستان میں برطانوی فوج کے ساتھ خدمات انجام دینے والے شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حساس معاملے پر ’’سچائی اور عزت‘‘ کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔

 

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد یورپی ممالک اور برطانیہ میں یہ بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کی قربانیوں کو کس طرح یاد رکھا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C