02/July/2023

بلوچستان: شیرانی میں دہشت گردوں کا ایف سی چیک پوسٹ اور پولیس اسٹیشن پر حملے، 4 اہلکار ہلاک

👁️ 39 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: شیرانی میں دہشت گردوں کا ایف سی چیک پوسٹ اور پولیس اسٹیشن پر حملے، 4 اہلکار ہلاک

بلوچستان: شیرانی میں دہشت گردوں کا ایف سی چیک پوسٹ اور پولیس اسٹیشن پر حملے، 4 اہلکار ہلاک

کوئٹہ (نمائندہ ڈیلی اردو/ڈی پی اے) صوبہ بلوچستان میں ہونے والے ایک حملے کے نتیجے میں کم از کم چار سکیورٹی اہلکار اور ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ حملہ آوروں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ چیک پوائنٹ پر دستی بموں اور رائفلوں سے حملہ کیا۔

صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم چار سکیورٹی اہلکار اور ایک عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ فائرنگ کا یہ تبادلہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے بعد شروع ہوا۔

مقامی پولیس چیف افسر عبدالسلام بلوچ کے مطابق کئی عسکریت پسند شمالی وزیرستان کی سرحد سے متصل ضلع شیرانی کے پہاڑی علاقے میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس علاقے میں ان کے متعدد ٹھکانے موجود ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی مشترکہ سکیورٹی پوسٹ پر دستی بم اور رائفلز سے حملہ کیا۔

حکام کے مطابق پولیس اہلکاروں کی شناخت سب انسپکٹر بہادر خان، سپاہی محمد افضل اور سپاہی محمد باز خان، سپاہی ایف سی (گن مین کیپٹن سعید) کے نام سے ہوئی جن کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال ژوب منتقل کردیا گیا۔

سرکاری ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ دہشت گردوں نے رات گئے دو چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا، پہلے حملہ ایف سی چیک پر کیا گیا جس میں کیپٹن سعید اور ایک ایف سی صوبیدار ہلاک ہوا۔ جبکہ دوسرے حملے میں سب انسپکٹر سمیت تین پولیس اہلکار اور ایک ایف اہلکار ہلاک ہوا۔

ڈپٹی کمشنر شیرانی بلال شبیر نے بتایا کہ اتوار کی رات 12 بج کر 5 منٹ پر نامعلوم دہشت گردوں نے ضلع شیرانی کے علاقے دھانہ سر میں پولیس اسٹیشن اور ایف سی کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔

تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان 2 گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دہشت گردوں کو ان کے ساتھی اپنے ساتھ لے کر جانے میں کامیاب ہوگئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے دانہ سر اور دیگر علاقوں میں ناکہ بندی کردی ہے۔

ضلع شیرانی کے ایک انتظامی افسر بلال شبیر کے مطابق، ”تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس فائرنگ کے تبادلے میں دو عسکریت پسند اور ایک نیم فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حملہ آور اپنے زخمی ساتھیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے اور مضافاتی پہاڑی پٹی پر حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

صوبائی حکومت کے سربراہ عبدالقدوس بزنجو نے اس حملے کی مذمت کی اور چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر پر دکھ کا اظہار کیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار اور ایک پیراملٹری فوجی شامل ہیں۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔

واضح رہے کہ شیرانی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ علاقہ انتظامی لحاظ سے ژوب ڈویژن کا حصہ ہے۔

اس ضلع کی سرحدیں شمال میں خیبرپشتونخوا کے جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع سے لگتی ہیں۔

اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پرمشتمل ہے تاہم وہاں شیرانی قبیلے کا شمار بڑے اورنمایاں قبائل میں ہوتا ہے۔

بلوچستان کو خیبر پختونخوا سے منسلک کرنے والی اہم ژوب ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ اس ضلع سے گزرتی ہے۔

ٹی ٹی پی ایک کالعدم گروپ ہے لیکن افغان طالبان کے ساتھ اتحادی ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت آتے ہی پاکستانی طالبان کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں اور انہوں نے پاکستانی حکومت کے ساتھ یک طرفہ طور پر جنگ بندی ختم کرنے کے بعد حالیہ مہینوں میں پولیس اور فوجی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان کی فوج نے حالیہ برسوں میں افغان سرحد کے ساتھ قبائلی پٹی میں بڑی کارروائیاں کی ہیں، جو کئی دہائیوں سے مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ رہی ہے۔ تاہم عسکریت پسند اب بھی اس علاقے میں وقتاﹰ فوقتاﹰ حملے کرتے رہتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C