23/June/2026

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید

👁️ 12 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے گوادر میں ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے رہنما صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

 

انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر ون کے جج محمد علی مبین نے پیر کے روز فیصلہ سنایا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، دیگر گرفتار رہنماؤں اور ان کے وکلا نے عدالت کا بائیکاٹ کیا، جبکہ گرفتار رہنما 12 جون سے ڈسٹرکٹ جیل ہدہ میں احتجاج پر بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔

 

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے وکیل اسرار جتک ایڈووکیٹ کے مطابق مقدمہ 2024 میں گوادر میں منعقد ہونے والے بلوچ راجی مچی اجتماع کے دوران ایک ایف سی اہلکار کی ہلاکت کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ 

 

عدالت نے اسی مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید اور دو، دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی، جو مقتول کے ورثا کو ادا کیا جائے گا۔

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی قانون کے مطابق رجسٹرڈ سیاسی جماعت یا تنظیم نہیں ہے اور اس کا اجتماع غیر قانونی تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ آئین کا آرٹیکل 16 پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، تاہم یہ حق قانونی حدود اور شرائط کے تابع ہے۔

 

عدالت کے مطابق ایف سی اہلکار سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے اور ان پر حملہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ اجتماع میں فعال کردار ادا کر رہے تھے اور مقتول اہلکار کے قتل کے واقعے میں ان کے مقاصد مشترک تھے، اس لیے انہیں قتلِ عمد کا مجرم قرار دیا گیا۔

 

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے مقدمے کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا، ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کے متعدد مواقع دیے گئے اور سرکاری وکیل بھی مقرر کیا گیا، تاہم انہوں نے عدالتی کارروائی میں شرکت یا سرکاری وکیل سے مشاورت نہیں کی، جس سے مقدمے کی کارروائی نہیں روکی جا سکتی تھی۔

 

ایف آئی آر کے مطابق ایف سی اہلکار معمول کی گشت پر تھے جب گوادر میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ خطاب کر رہی تھیں۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا کہ ان کی تقریر کے بعد مشتعل افراد نے ایف سی اہلکاروں پر پتھراؤ اور ڈنڈوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اہلکار شبیر احمد ہلاک ہو گئے۔

 

فیصلے کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک "فیس لیس عدالت" کا فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے سرکاری وکلا کو بھی مسترد کر دیا گیا تھا اور مقدمے کی کارروائی شفاف انداز میں نہیں چلائی گئی۔

 

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو سالہ قانونی عمل کے بعد مقتول اہلکار کو انصاف ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے، تشدد کو فروغ دینے اور ریاستی اہلکاروں پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

 

ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدمے کا فوری جائزہ لیا جانا چاہیے اور بلوچستان میں سیاسی مکالمے کا آغاز کیا جانا ضروری ہے۔

 

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اس مقدمے کے علاوہ دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے، جن میں احتجاجی مظاہروں، قتل، ریاست مخالف سرگرمیوں اور سول ہسپتال سے لاشیں لے جانے کے الزامات شامل ہیں، جبکہ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتی رہی ہیں۔

 

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا شمار انسانی حقوق کے نمایاں کارکنوں میں ہوتا ہے۔ انہیں 2024 میں بی بی سی کی "100 ویمن" اور ٹائم میگزین کی "ٹائم 100 نیکسٹ" فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C