11/July/2026

جنوبی ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار

👁️ 12 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار

جنوبی ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار

واشنگٹن (ڈیلی اردو) جنوبی ایران کے متعدد علاقوں کو جمعرات کو ہونے والے فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کے آخری مراحل جاری تھے۔

 

ایرانی حکام نے تاحال ان حملوں کی ذمہ داری کسی ملک یا گروہ پر عائد نہیں کی، تاہم ایک ایرانی رکن پارلیمان نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں معاونت فراہم کی، اور ابوظہبی کو ممکنہ نتائج سے خبردار کیا۔

 

خلیجی عرب ممالک، جن میں سے کئی ممالک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران ایرانی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، نے جمعہ 10 جولائی تک ان تازہ حملوں پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

 

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ اور خلیجی ممالک عالمی تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلا اور محفوظ رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔

 

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اس کے پاس ہونا چاہیے اور اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو تہران کو فیس ادا کرنی چاہیے، جبکہ عالمی برادری اسے ایک بین الاقوامی بحری راستہ تصور کرتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی آبنائے کے ذریعے ہوتی تھی۔

 

تنازع کے دوران آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کے باعث عالمی توانائی بحران پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، تاہم بعد میں کشیدگی میں کمی کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔

 

ایران کے خلاف جنگ میں شریک اسرائیل نے بھی حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

 

اس سے قبل جمعرات کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ ایران میں فضائی کارروائیوں کا ایک مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

 

اس اعلان کے فوراً بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے بوشہر، سیستان و بلوچستان، اہواز، چاہ بہار اور دیگر علاقوں میں فضائی حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات نشر کیں۔

 

امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کی صبح ہونے والی کارروائی کے اختتام کے بعد امریکہ نے ایران پر کوئی مزید فضائی حملہ نہیں کیا۔

 

جمعرات کے حملوں کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے بحرین، اردن، کویت اور قطر میں میزائل حملے کیے۔ ان ممالک میں فضائی حملوں کے خدشے کے باعث سائرن بجائے گئے، شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے اور فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے۔ کویتی حکام کے مطابق ایک شخص زخمی ہوا۔

 

حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کویت پہنچے، جہاں انہوں نے کویتی امیر سے ملاقات کی۔

 

دوسری جانب خلیجی ممالک نے قطر کے وزیر خارجہ سے بھی مشاورت کی، جو پاکستان کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ امن کوششوں میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد عبوری امن معاہدے کو برقرار رکھنا اور خطے کو دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جانے سے روکنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C