11/July/2026

کوئٹہ میں مغویوں کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم، زیارت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج جاری

👁️ 10 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوئٹہ میں مغویوں کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم، زیارت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج جاری

کوئٹہ میں مغویوں کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم، زیارت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج جاری

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہنہ اوڑک حملے کے خلاف گذشتہ اتوار سے جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، تاہم زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

 

ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں پاکستانی طالبان کے حملے کے بعد شروع کیے گئے دھرنے کے شرکا کے مطابق واقعے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 11 افراد کو اغوا کیا گیا تھا۔

 

کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے جاری دھرنے کے شرکا کے تین بنیادی مطالبات تھے، جن میں علاقے کو مسلح افراد سے پاک کرنا، مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کی فراہمی شامل تھے۔

 

گذشتہ شب اس وقت پیش رفت سامنے آئی جب تمام مغوی افراد کو رہا کر دیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے تصدیق کی کہ تمام مغوی افراد بحفاظت بازیاب ہو گئے ہیں۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق مغویوں کی رہائی میں قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے کردار ادا کیا اور اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔

 

اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرتی رہی جس میں مسلح افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جو خود کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو قرار دے رہے ہیں۔

 

مغویوں کی رہائی کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی رات گئے دھرنے کے مقام پر پہنچے، جہاں انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور دھرنا کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی۔

 

حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد دھرنا کمیٹی نے وزیرِ اعلیٰ کی درخواست پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

 

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اگر کسی سطح پر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو ممکنہ داد رسی فراہم کی جائے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے، اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

 

وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہلِ خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ متاثرہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔

 

دوسری جانب ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف دھرنا ختم ہونے کے باوجود زیارت میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

 

کوئلہ پھاٹک کے مقام پر جاری یہ دھرنا جمعرات کو مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ شروع کیا گیا تھا اور اب دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔

 

واضح رہے کہ زیارت میں پولیس اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C