کوئٹہ میں مغویوں کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم، زیارت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج جاری
👁️ 10 بار دیکھا گیا
کوئٹہ میں مغویوں کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم، زیارت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج جاری
کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہنہ اوڑک حملے کے خلاف گذشتہ اتوار سے جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، تاہم زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں پاکستانی طالبان کے حملے کے بعد شروع کیے گئے دھرنے کے شرکا کے مطابق واقعے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ 11 افراد کو اغوا کیا گیا تھا۔
کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے جاری دھرنے کے شرکا کے تین بنیادی مطالبات تھے، جن میں علاقے کو مسلح افراد سے پاک کرنا، مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کی فراہمی شامل تھے۔
گذشتہ شب اس وقت پیش رفت سامنے آئی جب تمام مغوی افراد کو رہا کر دیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے تصدیق کی کہ تمام مغوی افراد بحفاظت بازیاب ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق مغویوں کی رہائی میں قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے کردار ادا کیا اور اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔
اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرتی رہی جس میں مسلح افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جو خود کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو قرار دے رہے ہیں۔
مغویوں کی رہائی کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی رات گئے دھرنے کے مقام پر پہنچے، جہاں انہوں نے متاثرہ خاندانوں اور دھرنا کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد دھرنا کمیٹی نے وزیرِ اعلیٰ کی درخواست پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اگر کسی سطح پر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو ممکنہ داد رسی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے، اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہلِ خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ متاثرہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات بھی حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔
دوسری جانب ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف دھرنا ختم ہونے کے باوجود زیارت میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔
کوئلہ پھاٹک کے مقام پر جاری یہ دھرنا جمعرات کو مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ شروع کیا گیا تھا اور اب دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ زیارت میں پولیس اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ نے مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک ایرانی فنانسر پر پابندیاں عائد کر دیں
11/July/2026 👁️ 13 بار دیکھا گیا
کرک میں پولیس آپریشن، 4 مطلوب دہشت گرد ہلاک
11/July/2026 👁️ 9 بار دیکھا گیا
جنوبی ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار
11/July/2026 👁️ 12 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مجید بریگیڈ کا خضدار میں شفیق مینگل کے گھر پر خودکش حملہ، 17 افراد ہلاک
11/July/2026 👁️ 16 بار دیکھا گیا
ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا تنازع شدت اختیار کر گیا
11/July/2026 👁️ 10 بار دیکھا گیا
کوئٹہ میں مغویوں کی بازیابی کے بعد دھرنا ختم، زیارت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاج جاری
11/July/2026 👁️ 10 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8914 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4745 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3531 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2527 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2282 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1968 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C