21/August/2026

جنوبی یمن میں القاعدہ کے دوبارہ فعال ہونے اور انسدادِ دہشتگردی کمزور پڑنے کا خدشہ

👁️ 133 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی یمن میں القاعدہ کے دوبارہ فعال ہونے اور انسدادِ دہشتگردی کمزور پڑنے کا خدشہ

جنوبی یمن میں القاعدہ کے دوبارہ فعال ہونے اور انسدادِ دہشتگردی کمزور پڑنے کا خدشہ

صنعاء (ڈیلی اردو) ایک اطالوی رپورٹ میں جنوبی یمن میں القاعدہ کی سرگرمیوں میں ممکنہ اضافے اور انسدادِ دہشتگردی کے موجودہ نظام کی مؤثریت متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق ابین، شبوة اور حضرموت کے علاقے القاعدہ کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان صوبوں کے وسیع دیہی علاقوں اور دشوار گزار جغرافیہ کے باعث سکیورٹی دباؤ کم ہونے کی صورت میں تنظیم کو اپنے نیٹ ورک دوبارہ منظم کرنے اور جنگجوؤں کی نقل و حرکت بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی یمن میں ماضی میں القاعدہ کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں میں مقامی سکیورٹی فورسز کا اہم کردار رہا، جنہیں علاقے کے جغرافیہ اور مقامی حالات سے واقفیت حاصل ہے۔ انٹیلی جنس معلومات، سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطے اور زمینی سطح پر کارروائیوں کو بھی اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔

 

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انسدادِ دہشتگردی کے اس نظام کو کمزور کیا گیا یا اس کی تشکیل میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے اس کی کارکردگی متاثر ہو، تو ماضی میں حاصل ہونے والی سکیورٹی کامیابیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

 

رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے مقامی انسدادِ دہشتگردی فورسز کی معاونت اور انہیں منظم کرنے میں ادا کیے گئے کردار کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم کسی ملک کو سکیورٹی نظام کی کمزوری کا براہِ راست ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔

 

اطالوی رپورٹ نے جنوبی یمن کے ساحلی علاقوں، خلیج عدن اور بحیرہ عرب تک سکیورٹی خطرات پھیلنے کے خدشے کا بھی اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے اسمگلنگ، منظم جرائم اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے باہمی تعلق کو اہم خطرہ قرار دیتے ہوئے مسلسل سکیورٹی دباؤ اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C