جنگ بندی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر قرار
👁️ 135 بار دیکھا گیا
جنگ بندی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایران کے اندر موجود سخت گیر عناصر قرار
تہران (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) ایرانی اور امریکی مذاکرات کاروں کے مابین اسلام آباد میں اہم مذاکرات کے حوالے سے ایران نے عوامی سطح پر محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے، تاہم ایران میں صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ جنگی حالات نے بظاہر ایک متحد نظام کا تاثر پیدا کیا ہے لیکن حقیقت میں اس کے پس پردہ اختلافات کے آثار نمایاں ہیں۔
کچھ سخت گیر حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو برتری حاصل ہے اور اسے مفاہمت کے بجائے دباؤ برقرار رکھنا چاہیے، جبکہ جنگ بندی اور پائیدار امن کے حامی عناصر کو کمزور یا مصالحت پسند قرار دیے جانے کا خطرہ ہے۔
ایسی جنگ بندی جس پر مکمل اتفاق نہیں
عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان میں یہ تناؤ واضح نظر آیا، جس میں کسی کا نام لیے بغیر تمام فریقوں کو اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قیادت کو اندرونی تقسیم کا خدشہ ہے۔
ماضی میں سپریم لیڈر کا دفتر ایسے اختلافات کو آسانی سے حل کر لیتا تھا لیکن اب صورتحال زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ جنگ کے پہلے دن اپنے والد کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظرنامے سے غائب ہیں، جس سے ان کی حیثیت کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران میں کسی واضح ثالث کی عدم موجودگی، جو مختلف دھڑوں کو یکجا کر سکے، معمولی اختلافات کو سنگین عدم استحکام میں بدل سکتی ہے۔
سخت گیر عناصر جنگ کیوں چاہتے ہیں؟
جنگ بندی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ان عناصر سے ہے، جو مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔ ایران کے ایک سیاسی کارکن، جو پہلے اصلاح پسند حلقے سے وابستہ تھے لیکن اب خود کو غیر جانبدار قرار دیتے ہیں، نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ سخت گیر عناصر مزید سخت مؤقف اپنا سکتے ہیں اور پہلے سے کمزور ریاستی ڈھانچے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ دنوں میں عوامی بے چینی کے خدشے کے پیش نظر حکام نے اپنے حامی گروہوں میں اسلحہ بھی تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''وہ عوامی بغاوت سے خوفزدہ ہیں‘‘ اور یہاں تک کہ ''12 اور 13 سال کے بچے‘‘ بھی سڑکوں پر متحرک نظر آ رہے ہیں۔
اس صورتحال میں مفاہمت کو عوامی سطح پر قبول کروانا مزید مشکل ہو جاتا ہے، جہاں اسے ضرورت کے بجائے ہتھیار ڈالنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ایران کی تاریخ بھی ایک تنبیہ دیتی ہے۔ 1980ء کی دہائی میں ایران اور عراق کی جنگ کے بعد جنگ بندی کے حامی افراد کو برسوں تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ اس وقت ایران میں اسلامی انقلاب کے معمار اور سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے خود اسے ''زہر کا پیالہ‘‘ قرار دے کر قبول کیا تھا۔
نظام کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج؟
دوسری جانب ایرانی نظام کے اندر ایسے عناصر بھی موجود ہیں، جو جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی کارکن رضا علیجانی کے مطابق پاکستان نے کھل کر جبکہ چین نے پس پردہ تہران کو اس معاہدے کی طرف مائل کرنے میں کردار ادا کیا۔
تاہم ان کے خیال میں اصل دباؤ ایران کی اپنی محدود صلاحیتوں سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اسلامی جمہوریہ کے پاس عسکری صلاحیت تو ہے، لیکن طویل جنگ کے لیے معاشی وسائل ناکافی ہیں۔‘‘
ان کے مطابق اسی فرق نے عسکری اور سیاسی و انتظامی دھڑوں کے درمیان خلیج کو بڑھا دیا ہے، جو فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو رہی ہے اور مستقبل کی سمت کا تعین کرے گی۔
پائیدار امن کے لیے کیا ضروری ہے؟
ایران کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سابق عہدیدار بابک دربیکی کے مطابق پائیدار جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے، جب مذاکرات محض بحران سے وقتی طور پر نمٹنے کے بجائے مزید آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبھی ممکن ہے جب اسلام آباد مذاکرات ''کرائسز مینجمنٹ‘‘ کے بجائے ''تعلقات کے اسٹریکچر میں تبدیلی‘‘ کی طرف جائیں۔
ان کے مطابق دیرپا امن کے لیے ایران کو نظریاتی محاذ آرائی ترک کرنا ہوگی، علاقائی سلامتی کا نیا فریم ورک تشکیل دینا ہوگا اور اپنے اندرونی مفادات کو اس طرح ازسرنو متعین کرنا ہوگا کہ 'نظام کی بقا بیرونی کشیدگی پر منحصر نہ رہے‘۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی قیادت کے کچھ حلقے بیرونی کشیدگی کو اپنے اندرونی سیاسی مفادات کے لیے مفید سمجھتے ہیں، جس کے باعث یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔
اس پس منظر میں ایک نازک جنگ بندی کو پائیدار امن میں بدلنے کے لیے نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ضروری ہوگا بلکہ اسلامی جمہوریہ کے اندر موجود تمام بااثر حلقوں کی حمایت بھی درکار ہوگی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 277 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 359 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 706 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 617 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 229 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 325 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8964 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4815 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3575 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3486 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C