30/November/2025

جنگ کا ’فوری طور پر خاتمہ اور باوقار امن‘ چاہتے ہیں، یوکرینی صدر زیلنسکی

👁️ 208 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنگ کا ’فوری طور پر خاتمہ اور باوقار امن‘ چاہتے ہیں، یوکرینی صدر زیلنسکی

جنگ کا ’فوری طور پر خاتمہ اور باوقار امن‘ چاہتے ہیں، یوکرینی صدر زیلنسکی

کییف (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز/ڈی پی اے)  یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کو اعلان کیا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم واشنگٹن روانہ ہو گئی ہے تاکہ 2022ء میں روس کی شروع کی گئی جنگ کا ’تیز رفتار خاتمہ‘ اور ’باوقار امن‘ حاصل کیا جائے۔

 

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کو اعلان کیا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم واشنگٹن روانہ ہو گئی ہے تاکہ 2022ء میں روس کی شروع کی گئی جنگ کا ’تیز رفتار خاتمہ‘ اور ’باوقار امن‘ حاصل کیا جائے۔

 

اس مذاکراتی ٹیم کی قیادت اب سابق دفاع کے سربراہ رسٹم عمرُوف کر رہے ہیں، جو کییف میں پھیلے ہوئے کرپشن اسکینڈل کے درمیان آخری لمحات میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ زیلنسکی نے ایکس پر لکھا کہ کام واضح ہے: ’’جنگ ختم کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس حل تلاش کرنا۔‘‘

 

جمعے کو چیف آف اسٹاف آندری یرماک کے استعفیٰ کے بعد یوکرینی صدر نے نیشنل سکیورٹی اینڈ ڈیفنس کونسل کے سکریٹری اور سابق وزیرِ دفاع عمرُوف کو مذاکراتی ٹیم کی سربراہی سونپی۔

 

زیلنسکی نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ ’’ممکنہ حد تک تعمیری‘‘ طریقے سے بات چیت کر رہا ہے اور ’’باوقار امن حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔‘‘

 

کییف کی اصرار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 28 نکاتی منصوبے میں چند ترامیم کی گئی ہیں تاہم واشنگٹن میں کچھ متنازعہ مسائل حل ہونے باقی ہیں۔

 

مذاکرات کی ابتدائی قیادت یرماک کر رہے تھے، جو استعفیٰ دینے کے بعد اس ٹیم کا حصہ نہیں رہے۔ زیلنسکی نے ٹیم کی دوبارہ تشکیل کا حکم جاری کیا۔ عمرُوف کا نام بھی کرپشن تحقیقات سے جڑا تھا لیکن انہوں نے کسی بھی ایسے الزام سے انکار کیا ہے۔

 

اس سال عمرُوف نے روس کے ساتھ کئی بار مذاکرات کیے، جن کے نتائج میں قیدیوں کا تبادلہ اور ہلاک فوجیوں کی لاشوں کی واپسی شامل تھی۔ سابق چیف مذاکرات کار یرماک نے روس کی شرائط کے طور پر مشرقی ڈونباس میں علاقائی رعایتیں دینے کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا

 

یوکرین شدید سیاسی بحران کا شکار ہو چکا ہے، کریملن کا دعویٰ

 

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ جمعے کو صدر زیلنسکی کے چیف آف اسٹاف کے استعفیٰ نے یوکرین کو شدید سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کییف میں کرپشن اسکینڈلز کی وجہ سے سنگین سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ جمعے کو ہی اینٹی کرپشن ایجنٹوں نے زیلنسکی کے قریبی ساتھی اور امن مذاکرات کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے آندری یرماک کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا۔

 

اس کے چند گھنٹوں بعد ہی یرماک نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد سے امن مذاکرات میں بھی تعطل پیدا ہو چکا ہے۔ یرماک پر الزام ہے کہ انہوں نے انرجی سیکٹر میں کرپشن کی ہے۔ 

 

یاد رہے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپی یونین کے متعدد ممالک بھی صدر زیلنسکی سے کرپشن کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

 

یورپی یونین میں جرمنی جیسے ممالک روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اس ملک کو اربوں یورو کی مالی امداد فراہم کر چکے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C