16/October/2025

جوہری ملک بھارت کی فوجی قیادت غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہی ہے، پاکستانی فوج

👁️ 306 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جوہری ملک بھارت کی فوجی قیادت غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہی ہے، پاکستانی فوج

جوہری ملک بھارت کی فوجی قیادت غیر ذمہ دارانہ بیانات دے رہی ہے، پاکستانی فوج

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) اگر 'انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کے ساتھ کھیل سکتی ہے، اگر افغان وزیر یہاں آ کر مذاکرات کرسکتے ہیں، تو پھر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیا حرج ہے۔ بات چیت جنگ کا بہتر متبادل ہے۔‘

 

یہ بات انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے نائب وزیرِ اعلیٰ سُریندر سنگھ نے بارہمولہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

 

انڈیا کے ڈائیریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائے اور مغربی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار کے بیانات پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سریندر سنگھ کا کہنا تھا: ’جو لوگ دُور بیٹھ کر جنگ کی باتیں کرتے ہیں، اُنھیں سرحدی آبادیوں کا دورہ کر کے اصلیت کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

 

انھوں نے کہا کہ جدید دور کی جنگیں صرف افواج کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ ان میں دونوں طرف کے عوام بھی متاثر ہوتے ہیں۔

 

سریندر سنگھ نے کہا ’سرحدی گاوٴں کا باشندہ ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا میں جنگی جنون کو فروغ دیا جاتا ہے۔ لیکن ان غریبوں کا کیا جن کے گھر آپریشن سندور میں اُجڑ گئے، بیشتر کو ابھی معاوضہ تک نہیں ملا۔‘

 

اس سے قبل جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انڈین فوج کی مغربی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار نے کہا تھا کہ ’آپریشن سِندُور 2.0 پہلے کے مقابلے زیادہ شدید ہوگا، اگر پڑوسی ملک نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

 

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے پہلگام والی حرکت دہرائی تو اس کا پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

 

’پاکستان پہلگام میں کی گئی واردات دوبارہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن فوج پوری قوّت کے ساتھ تیار ہے، ہمارا ردِعمل پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔‘

 

لیفٹیننٹ جنرل کٹیار نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان چھوٹے حملے کرواتا ہے کیونکہ وہ انڈیا کے ساتھ براہ راست جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ انڈیا کو ہزار ضربوں سے لہولہان کرنا چاہتا ہے۔‘

 

اسی دوران نئی دلّی میں ایک تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائے نے دعویٰ کیا تھا کہ مئی میں ہوئی مختصر جنگ کے دوران انڈین فضائیہ نے پاکستانی ایئرفورس کے 11 ٹھکانوں پر ڈرون حملے کیے جن میں سے آٹھ کو تباہ کر دیا گیا اور ’دشمن فوج کے متعدد اثاثے بھی تباہ کیے گئے۔‘

 

یاد رہے کہ رواں سال مئی کے مہینے میں دونوں پڑوسی جوہری طاقتوں کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے متعدد طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

 

’ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی فوجی قیادت سیاسی دباؤ میں آ کر غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر رہی ہے‘

 

دوسری جانب، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال مئی میں ہونے والی لڑائی کے پانچ ماہ بعد بہار اور مغربی بنگال میں انتخابات کے دوران انڈین فوجی قیادت نے ایک بار پھر من گھڑت اور اشتعال انگیز پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا ہے جو وہ انڈیا میں ہر ریاستی الیکشن سے قبل کرتے ہیں۔

 

’یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کی عسکری قیادت کو سیاسی دباؤ میں آ کر غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کر رہی ہے۔‘

 

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پیشہ ور سپاہی جانتا ہے کہ ایسے غیر ضروری بیانات جنگی جنون کا ایک ایسا سلسہ شروع کر سکتے ہیں جس سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈین فوج کے بیانات میں اتنا تضاد پایا جاتا ہے ان کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انڈین بھارتی فوج اور ان کی سیاسی قیادت اس بات کو تسلیم نہیں کر پا رہی ہے کہ انھیں شکست ہوئی ہے اور ان کا جھوٹ پوری طرح سے بے نقاب ہو چکا ہے۔‘

 

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ دنیا اب انڈیا کو ایک ایسے ملک کے طور پر تسلیم کرتی ہے جو نہ صرف اپنے پڑوسیوں بلکہ اپنے ہی عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے مہم جوئی اور تسلط پسندی پر تلا ہوا ہے۔

 

پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ انڈین افواج اور ان کے سیاسی آقاؤں کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے عوام اور اس کی مسلح افواج اپنی سرزمین کے دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C