19/October/2025

حافظ گل بہادر: وہ شخصیت جو کبھی ’گڈ طالبان‘ سمجھی جاتی تھی

👁️ 552 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حافظ گل بہادر: وہ شخصیت جو کبھی ’گڈ طالبان‘ سمجھی جاتی تھی

حافظ گل بہادر: وہ شخصیت جو کبھی ’گڈ طالبان‘ سمجھی جاتی تھی

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستانی فوج نے افغان صوبے پکتیکا میں عسکریت پسند گروپ ''گل بہادر گروپ‘‘ پر تازہ حملے کیے ہیں۔ پاکستانی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق ان تازہ حملوں کے نتیجے میں اس گروپ کے ساٹھ تا ستر ''دہشت گردوں‘‘ کو ہلاک کر دیا گیا۔

 

مختلف میڈیا رپورٹوں کے مطابق سن 2001 میں افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج کی طرف سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد حافظ گل بہادر نے عسکریت پسندی کا راستہ چنا تھا۔ تب افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے شمالی وزیرستان میں فعال اس گروہ نے پاکستانی فوج پر حملوں کی مخالفت کی تھی۔ اس لیے اس گروہ کو ''گڈ طالبان‘‘ بھی قرار دیا گیا۔

 

عسکریت پسند کمانڈر گل بہادر نے تحریک طالبان پاکستان کا باضابطہ طور پر اتحادی بننا بھی پسند نہیں کیا تھا۔ تاہم گل بہادر کی افغان طالبان سے قربت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے۔ کچھ سکیورٹی ماہرین کے مطابق گل بہادر اور افغان طالبان کے ایک اہم رہنما سراج الدین حقانی کے مابین قریبی تعلق تھا۔

 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ایک مضمون کے مطابق اس لیے گل بہادر اور القاعدہ کے مابین بھی روابط پیدا ہو گئے۔

 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں مضبوط گڑھ بنانے والے گل بہادر نے القاعدہ کے اہم جنگجوؤں کو پناہ دی اور افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی فورسز پر حملوں میں معاونت بھی فراہم کی۔ اسی دوران اس عسکریت پسند گروہ نے پاکستانی حکومت کے ساتھ مبینہ طور پر ایک معاہدہ بھی کر لیا تھا۔

 

سن 2006 میں شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان اور حکومت کے مابین ایک ڈیل ہوئی، جس کے تحت غیر ملکی جنگجوؤں کو علاقہ بدر کرنے اور ساتھ ہی طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کی افغانستان آمد و رفت پر پابندی لگانے پر اتفاق ہوا۔

 

یہ وہی دور تھا، جب گل بہادر کا گروہ 'گڈ طالبان‘ قرار دیا جانے لگا تاہم ناقدین کے مطابق دراصل یہ اس گروہ کی حکمت عملی تھی کیونکہ اس نے اپنی تمام تر توجہ افغانستان میں امریکی اور اس کے اتحادیوں پر حملے کرنے پر مرکوز کر رکھی تھی۔

 

سن 2009 میں جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عسکری آپریشنشروع ہوا تو بہت سے جنگجو شمالی وزیرستان فرار ہو گئے۔ یوں حکومت پر دباؤ بڑھا کہ وہ افغان سرحد سے متصل اس علاقے میں بھی کارروائی شروع کرے۔

 

تاہم سن 2014 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی، جس کے نتیجے میں گل بہادر سمیت متعدد شدت پسند گروہ افغانستان منتقل ہو گئے۔

 

افغانستان منتقلی کے بعد گل بہادر گروپ کمزور ہو گیا تاہم اگست سن 2021 میں افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اس گروپ نے دوبارہ منظم ہونا شروع کیا تو اس نے پاکستانی علاقوں میں حملے شروع کر دیے۔ اس وقت گل بہادر گروپ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے تاہم ’’مذاکراتی ٹیم کی عزت اور وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے‘‘ افغان فورسز کو نئی فوجی کارروائی سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔

 

ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ہفتے کے روز قطر میں پاکستان اور افغانستان کے حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات سے قبل سامنے آیا، جو ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب پاکستان نے جمعہ کو افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔

 

 ان حملوں سے دونوں ممالک کے درمیان دو روزہ جنگ بندی کا خاتمہ ہو گیا، جو سرحدی جھڑپوں کے بعد عارضی طور پر نافذ کی گئی تھی۔

 

پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر کیے گئے۔ پاکستانی حکومت اس گروپ پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان میں پاکستانی نیم فوجی اہلکاروں پر حملے کیے۔

 

قیام امن کیلئے دوحہ میں مذاکرات

 

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور انٹیلیجنس چیف جنرل عاصم ملک پر مشتمل وفد دوحہ میں مذاکرات میں شریک ہے جبکہ افغان طالبان کے وزیر دفاع محمد یعقوب کی قیادت میں افغان وفد بھی قطر پہنچ چکا ہے۔

 

افغان وزارت داخلہ کے نائب وزیر ملا محمد نبی عمری نے کہا ہے، ''ہم نے تحریک طالبان پاکستان کو نہ بلایا، نہ ان کی حمایت کی اور نہ ہی وہ ہمارے دور میں آئے۔‘‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے ہفتے کے روز ایک فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا،''افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویشناک ہے۔‘‘

 

دونوں ممالک کے درمیان تازہ کشیدگی گیارہ اکتوبر کو اس وقت بڑھی، جب طالبان نے مبینہ طور پر پاکستان کی جنوبی سرحد پر حملے شروع کیے، جس کے بعد اسلام آباد نے سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔

 

پاکستان کی جانب سے افغان صوبے پکتیکا میں کیے گئے تازہ فضائی حملوں پربھارت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے کہا ہے کہ پاکستان اپنی اندرونی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے اور افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔

 

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتے کے روز ایک پریس بریفنگ میں کہا، ''تین باتیں بالکل واضح ہیں، پہلی، پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کرتا ہے اور دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے، دوسری، پاکستان کی پرانی عادت ہے کہ وہ اپنی اندرونی ناکامیوں کا الزام ہمسایہ ممالک پر ڈالتا ہے اور تیسری یہ کہ پاکستان افغانستان کے اپنی خودمختاری کے استعمال سے خفا ہے۔‘‘

 

بھارت نے افغانستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر قسم کی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔

 

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات سے اختلافات دور کریں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C