24/March/2024

حافظ گل بہادر گروپ کی پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظرعام پر آگئی

👁️ 67 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حافظ گل بہادر گروپ کی پاکستانی  سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظرعام پر آگئی

حافظ گل بہادر گروپ کی پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظرعام پر آگئی

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ویڈیو منظر عام پر آگئی۔

نجی ٹی وی چینل ’ڈان نیوز‘ کے مطابق ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے علاقے ڈانگر الگد (Dangar Algad)میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سرغنہ یحییٰ حافظ گل بہادر گروپ کے دہشتگردوں کو ہدایات دے رہا ہے کہ آپ نے پاکستانی پوسٹوں پر حملہ کرنا ہے۔

ویڈیو میں کالعدم ٹی ٹی پی کا کمانڈر دہشت گردوں کو بتا رہا ہے کہ ہم پاکستان سے بدلہ لینے کے لیے تیار ہیں، منصوبے کے مطابق 6 راکٹ چلانے والے ہوں گے اور 6 ان کے معاونین، اسی طرح 2 لیزر والے ہوں گے اور 2 ان کے ساتھ معاونین جبکہ ایک بندہ سنائپر بھی ہوگا، یہ سب مجاہدین امیر المومنین شیخ عباداللہ کے احکامات پر تیار ہیں۔

ٹی ٹی پی کمانڈر یحییٰ ویڈیو میں خودکش بمبار کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، دہشتگرد پاکستان کے خلاف لڑنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں، ویڈیو میں پاکستان میں داخلے کے لیے تیار تشکیل کو ضابطہ سمجھانے اور زخمیوں کو پیچھے نہ چھوڑنے کی ہدایات بھی دی جاتی ہیں۔

ویڈیو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ٹی ٹی پی پاک افغان سرحد سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور دہشت گردوں کو پوری مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔

واضح رہے کہ پیر کی صبح افغان طالبان نے کہا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کی حدود میں پکتیکا اور خوست کے علاقوں میں بمباری کی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک بیشتر گروپ ٹی ٹی پی میں ضم ہو چکے ہیں لیکن چند ایک گروپ اب بھی ٹی ٹی پی کی چھتری کے نیچے نہیں آئے، جن میں حافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے۔

شمالی وزیرستان میں شدت پسند تنظیموں میں طالبان کے حافط گل بہادر گروپ کی اپنی ایک اہمیت رہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ کابل حکومت دہشتگردوں کو اپنی سر زمین استعمال نہ کرنے دیں، دوسری جانب دہشتگردوں کی افغانستان سے پاکستان میں دراندازی پر افغان عبوری حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

یہ دہشتگرد پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں جو افغان سرزمین کا مسلسل استعمال کر ر ہے ہیں، پاکستان نے افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی پر افغان عبوری حکومت کو بارہا اپنے سنگین تحفظات سے آگاہ کیا مگر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہو سکی ۔

واضح رہے پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو افغانستان سے دہشتگردی کے واضح ثبوت بھی فراہم کئے جو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لئے افغان سرزمین کا بے دریغ استعمال عالمی معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

18 مارچ کو دفتر خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں کے اندر ’انٹیلی جنس پر مبنی معلومات کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں‘ کیں جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل افغان عبوری حکومت نے کہا تھا کہ اس کی سرزمین پر کیے گئے فضائی حملے میں 8 افراد مارے گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلو چ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی ہدف حافظ گل بہادر گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے جو ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید ہوئے، تازہ ترین حملہ 16 مارچ 2024 کو شمالی وزیرستان میں میر علی میں ایک سیکورٹی پوسٹ پر ہوا اور اس میں 7 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغان سرزمین پر فضائی حملہ کیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے تمام 8 افراد خواتین اور بچے تھے، ’رات کو تقریباً 3 بجے پاکستانی طیاروں نے اپنی سرحد کے قریب افغان صوبے خوست اور پکتیکا میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستانی فورسز کی اس کارروائی سے قبل شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب دہشتگرد کمانڈر سحرا عرف جانان سمیت 8 دہشتگرد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق 17 اور 18 مارچ کی رات سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔

پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں دہشتگرد کمانڈر سحرا عرف جانان سمیت 8 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، سحرا 16 مارچ کو میر علی میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا اور سیکیورٹی فورسز کو انتہائی مطلوب تھا۔

’گُڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور

شمالی وزیرستان میں سنہ 2014 میں بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جسے آپریشن ’ضرب عضب‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس آپریشن سے پہلے حافظ گل بہادر گروپ حکومت کا حمایتی گروپ سمجھا جاتا تھا اور ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ گروپ طالبان کے اندر پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے خلاف تھا۔

اس گروپ کے بارے میں تجزیہ کار یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ’گُڈ طالبان‘ تھے۔

سنہ 2022 میں جب ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز کیا جا رہا تھا تو ان دنوں میں طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ بھی بات چیت کی خبریں سامنے آئی تھیں اور ایک خبر یہ بھی تھی کہ شمالی وزیرستان کی حد تک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس بارے میں مزید کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔

یاد رہے کہ اکتوبر2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کے مختلف دھڑوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

اس میں ایک گروپ حافظ گل بہادر کا بھی تھا۔

خبر کچھ یوں سامنے آئی تھی کہ شمالی وزیرستان مسلح گروپ شوریٰ مجاہدین نے یکم اکتوبر سے علاقے میں 20 دن کے لیے فائر بندی کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ بات چیت میں کامیابی ہوئی تو فائر بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

اس بیان کے بعد ٹی ٹی پی نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ کہا تھا کہ ان کی اپنے دھڑوں میں بات چیت جاری ہے۔ شوریٰ مجاہدین ٹی ٹی پی میں ضم نہیں ہوئے ہیں۔

اس جنگ بندی کے اعلان کے بارے میں ذرائع نے بتایا تھا کہ حافظ گل بہادر کے گروپ شوریٰ مجاہدین کے سرکردہ رہنما صادق نور اور صدیق اللہ نے فائر بندی کا فیصلہ کیا تھا۔

شمالی وزیرستان میں متحرک حافظ گل بہادر گروپ اس وقت منظر عام پر آئے جب حافظ گل بہادر نے بیت اللہ محسود کی سربراہی میں قائم کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

بیت اللہ محسود جب سنہ 2007 میں تنظیم کے سربراہ مقرر ہوئے تو اس وقت حافظ گل بہادر کو شمالی وزیرستان میں نائب امیر مقرر کیا گیا تھا۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ حافظ گل بہادر کو ٹی ٹی پی کی پالیسیوں خاص طور پر پاکستان کے اداروں پر حملوں سے اختلاف تھا۔ حافظ گل بہادر افغانستان میں روس کے حملے کے بعد مجاہدین کے ساتھ جنگ کا حصہ تھے۔

حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سنہ 2001 میں 4000 رضا کاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔

حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کی زیادہ مخالفت میں نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون سنہ 2014 میں آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔

اس آپریشن میں حکومت نے متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ علاقہ اب شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C