20/October/2025

حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ اور رفح میں فضائی حملے شروع کر دیے

👁️ 430 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ اور رفح میں فضائی حملے شروع کر دیے

حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ اور رفح میں فضائی حملے شروع کر دیے

غزہ + یروشلم (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

 

دوسری جانب ایک سکیورٹی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر رہا ہے۔

 

اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق ’اتوار کی صبح جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد آئی ڈی ایف کے حملے حماس کے ’دہشت گردی کے اہداف‘ کے خلاف ہیں۔

 

دوسری جانب حماس نے جنگ بندی کے لیے پرعزم رہنے اور اسرائیل پر متعدد بار اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

 

سکیورٹی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’سیاسی قیادت کی ہدایت کے مطابق حماس کی جانب سے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے بعد غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی منتقلی کو اگلے نوٹس تک روک دیا گیا ہے۔‘

 

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے تاہم حماس نے اس کی تعدید کی ہے۔

 

ادھر غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس نے سنیچر کو کہا تھا کہ شمالی غزہ میں ایک اسرائیلی ٹینک کے گولے سے ایک بس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے ان تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

 

یہ واقعہ جنگ بندی کے آٹھویں دن پیش آیا اور اسے جنگ بندی کے بعد سے اب تک کا سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہے ہے کہ جس میں اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

 

اسرائیل کے مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ غزہ کے وسطی قصبے الزویدہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے القسام بریگیڈ کے سینئر فیلڈ کمانڈر المبحوح سمیت چھ ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

 

حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ اس وقت جاری ہے اور تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور مقتولین کی لاشیں اب بھی اسرائیل کو واپس کی جا رہی ہیں۔

 

معاہدے کے تحت اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 250 فلسطینی قیدیوں اور غزہ سے 1718 قیدیوں کو رہا کیا۔

 

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس حوالے سے غزہ امن معاہدے کے ضامنوں مصر، قطر اور ترکی کو مطلع کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ حماس معاہدے کی شرائط کی پابندی کرے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر حماس نے یہ حملہ کیا تو غزہ کے شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

حماس نے تاحال امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

 

ٹرمپ نے اس ہفتے کے شروع میں ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’اگر حماس نے غزہ میں لوگوں کو مارنا جاری رکھا، جو کہ ڈیل نہیں تھی، تو ہمارے پاس انھیں مارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

 

غزہ اور رفح میں اسرائیل کے فضائی حملے 

 

اسرائیلی میڈیا میں رپورٹس آئیں کہ اسرائیلی فوج نے غزہ پر دوبارہ حملہ کر دیا ہے، لیکن فوج نے کہا کہ حماس کی جانب سے مقررہ ’پیلی لکیر‘ کو عبور کر کے اسرائیلی افواج پر حملے کیے گئے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے

 

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی غزہ کے شہر رفح میں جنگجوؤں کی فائرنگ کے جواب میں فضائی حملے کیے گئے۔ 

 

فوج کے بیان میں کہا گیا، "آج جب اسرائیلی دفاعی افواج معاہدے کی شرائط کے تحت رفح میں دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر رہی تھیں، تو ان پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور اینٹی ٹینک میزائل بھی داغے۔" 

 

بیان میں مزید کہا گیا کہ “فوج نے فضائی حملوں اور آرٹلری کا استعمال کرتے ہوئے رفح کے علاقے میں ان چند سرنگوں اور دیگر تنصیبات کو تباہ کر دیا جہاں دہشت گردانہ سرگرمی دیکھی گئی تھی۔”

 

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حملوں کا سخت رد عمل دیا جائے گا۔ اسرائیل نے غزہ اور مصر کو ملانے والی رفح بارڈر کراسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند رکھنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

 

 دفتر نیتن یاہو کے بیان کے مطابق، سرحدی گزرگاہ کے کھلنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ حماس جنگ بندی کی شرائط اور اٹھائیس ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے پر کس طرح عملدرآمد کرتا ہے۔

 

حماس نے اب تک تیرہ لاشیں اسرائیل کے حوالے کی ہیں، جبکہ اسرائیل ڈیڑھ سو فلسطینیوں کی نعشیں واپس کر چکا ہے۔

 

حماس کا دعویٰ

 

حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ رفح میں کسی لڑائی یا فائرنگ کے تبادلے سے وہ واقف نہیں ہیں۔ شدت پسند گروہ کے مطابق رفح کا علاقہ اسرائیل کے زیر انتظام ہے اور مارچ سے وہاں سرگرم ارکان یا گروہوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہے۔ حماس نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ فائرنگ اور حملوں کے تبادلے کے باوجود حماس نے تصدیق کی کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

 

امریکی محکمہ خارجہ نے حماس پر غزہ پٹی میں فلسطینیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا اور کہا کہ شواہد امن معاہدے کی نگران قوتوں کو فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ حماس نے الزامات کو "بے بنیاد اور اسرائیلی پروپیگنڈا" قرار دیا۔

 

حالیہ صورتحال

 

دس اکتوبر کو جنگ بندی پر عمل درآمد کے بعد اطلاعات آئیں کہ حماس نے فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا، جبکہ حماس اور دیگر مسلح گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی بھی رپورٹس ہیں۔ حماس نے جنگ بندی کے تحت ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا، اور اسرائیل نے کہا کہ صورتحال کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C