23/December/2024

خیبرپختونخوا حکومت کا پاراچنار روڈ کی حفاظت کیلئے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا حکومت کا پاراچنار روڈ کی حفاظت کیلئے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت کا پاراچنار روڈ کی حفاظت کیلئے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل پولیس فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سوموار کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ روز کرم کے مسئلے پر صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں پاڑہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل پولیس فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فورس میں مجموعی طور پر 399 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق کابینہ کو بتایا گیا کہ پاڑہ چنار سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے ابتدائی طور پر عارضی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی جنھیں بعد میں مستقل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے بعد سڑک کھولی جائے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بند کرنے کے لیے ایف آئی اے کا سیل بھی قائم کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی نے یکم فروری تک تمام غیر قانونی ہتھیار ضبط کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ قانونی ہتھیاروں کے لائسنس کے اجرا کے لیے محکمہ داخلہ میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ یکم فروری تک علاقے میں مسلح گروپوں کی جانب سے قائم مورچوں کو بھی مسمار کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک تقریباً دس ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں جبکہ علاقے میں رعایتی نرخوں پر گندم بھی فراہم کی جارہی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کرم میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ کرم کا مسئلہ دہشتگردی کا نہیں بلکہ دو گروپوں کے درمیان تنازعہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں غیر قانونی بھاری ہتھیاروں کی بھر مار ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کی کسی بھی مسلح گروپ کو غیر قانونی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کی پالیسی نہیں ہے۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ تیراہ اور جانی خیل میں آپریشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں فرقہ وارنہ فسادات میں ناصرف 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں بلکہ نہ ختم ہونے والی کشیدگی کے باعث کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C