دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان ہمارے اتحادی ہیں، روسی صدر پوٹن
👁️ 55 بار دیکھا گیا
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان ہمارے اتحادی ہیں، روسی صدر پوٹن
آستانہ (ڈیلی اردو/اے ایف پی/وی او اے) روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعرات کو کہا کہ طالبان، روس میں ایک کالعدم گروپ ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ماسکو کے “اتحادی” ہیں کیونکہ ان کا افغانستان پر کنٹرول ہے۔
ماسکو نے برسوں سے طالبان کے ساتھ تعلقات کو اس کے باوجود فروغ دیا ہے کہ وہ روس میں 2003 سے ایک کالعدم تنظیم ہے اور پوٹن نے گزشتہ ماہ ماسکو پر زور دیا کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔
پوٹن نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظم کونسل کے سربراہی اجلاس کے موقع پر کہا کہ “ہمیں یہ فرض کرنا چاہیے کہ طالبان کا ملک کے اقتدار پر کنٹرول ہے۔ اور اس اعتبار سے طالبان بلا شبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اتحادی ہیں، کیونکہ کوئی بھی حکام اس ریاست کے استحکام میں دلچسپی رکھتے ہیں جس پر وہ حکومت کرتے ہیں۔”
طالبان برسوں سے افغانستان میں جہادی حریف اسلامک اسٹیٹ خراسان، (IS-K) کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
مارچ میں، اسلامک اسٹیٹ خراسان کے جنگجوؤں نے ماسکو کے ایک کنسرٹ ہال پر حملے میں 140 سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا، جو کہ روس میں تقریباً دو عشروں میں مہلک ترین دہشت گرد حملہ تھا۔
2021 میں افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد سے، طالبان نے اسلامی قانون کی ایک انتہائی شکل کو نافذ کیا ہے جو خواتین کو عوامی زندگی میں شمولیت سے مؤثر طریقے سے روکتا ہے۔
پوٹن نے کہا کہ طالبان نے “کچھ ذمہ داریاں پوری کی ہیں” لیکن یہ کہ اب بھی “ایسے مسائل ہیں جن پر ملک کے اندر اور عالمی برادری کی جانب سے مسلسل توجہ درکار ہے۔ ”
انہوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ طالبان افغانستان میں ہر چیز کے مستحکم ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘
ماسکو نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا ہے — جس کے ساتھ 1980 کے عشرے میں سوویت حملے کے بعد — اس ملک سے امریکہ کے انخلاء کے بعد سے، اس کی ایک پیچیدہ تاریخ ہے۔
لیکن وہ طالبان کی حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے اور جسے وہ “اسلامی امارت افغانستان” کہتی ہے۔
قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ‘شنگھائی تعاون تنظیم’ (ایس سی او) کا دو روزہ اجلاس جمعرات کو ختم ہو گیا ہے۔
شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن 2001 میں قائم ہوئی تھی جس میں ابتدائی طور پر روس، چین اور وسطی ایشائی ملک شامل تھے۔
بعد ازاں اس میں بھارت، پاکستان اور ایران کو بھی شامل کر لیا گیا اور اس سال بیلا روس کو بھی اس کی رکنیت مل گئی ہے۔
اس گروپ کا بنیادی مقصد منشیات کی اسمگلنگ اور ملک کو درپش عدم استحکام کے خطرے کے مقابلے کے لیے مشترکہ نقطہ نظر پیدا کرنا ہے۔
اس اجلاس کی ایک اہم بات یہ رہی کہ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس میں شرکت نہیں کی۔ اس سے قبل پانچ اجلاسوں میں مودی بذات خود شریک ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا
19/June/2026 👁️ 184 بار دیکھا گیا
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی
19/June/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
باجوڑ: دہشت گردوں نے گرلز ہائی اسکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا
19/June/2026 👁️ 122 بار دیکھا گیا
ایران نے معاہدہ توڑا تو فوجی کارروائی اور بحری ناکہ بندی دوبارہ ہوگی، امریکی وزیر دفاع
19/June/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں پولیس چیک پوسٹ پر کواڈ کاپٹر حملہ، 3 اہلکار زخمی
19/June/2026 👁️ 115 بار دیکھا گیا
لبنان میں اسرائیلی کارروائی میں تین افراد ہلاک
18/June/2026 👁️ 140 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8837 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4578 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3283 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2461 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2103 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1907 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C