سر کریک سے جیوانی تک اپنی بحری حدود کا دفاع کرنا جانتے ہیں، پاکستانی نیول چیف
👁️ 378 بار دیکھا گیا
سر کریک سے جیوانی تک اپنی بحری حدود کا دفاع کرنا جانتے ہیں، پاکستانی نیول چیف
کراچی (ڈیلی اردو/رائٹرز) پاکستان آرمی کے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ سر کریک سے جیوانی تک اپنی بحری حدود کے ہر انچ کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
ڈیلی اردو کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس ایریا میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا، اس دوران انہوں نے آپریشنل تیاریوں اور جنگی صلاحیتوں کا بھی جائزہ لیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایڈمرل نوید اشرف نے دورے کے دوران پاک میرینز میں باضابطہ طور پر 3 جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہور کرافٹس کو شامل کیا گیا، یہ ہور کرافٹس پاکستان نیوی کی آپریشنل صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نئی شامل کی گئی ہور کرافٹس بیک وقت مختلف سطحوں پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جن میں کم گہرائی والی جگہ، ریتیلے ٹیلے، دلدلی اور نرم ساحلی علاقے شامل ہیں، یہ کرافٹس ان جگہوں پر بھی چل سکتی ہیں جہاں روایتی کشتیوں یا جہازوں کا چلنا ممکن نہیں۔
زمین اور سمندر دونوں پر بیک وقت کام کرنے کی یہ منفرد صلاحیت پاک میرینز کو اپنے تفویض کردہ فرائض کی انجام دہی میں نمایاں برتری فراہم کرتی ہے، یہ پاکستان نیوی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گی تاکہ وہ دشمن کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل ظاہر کر سکے۔
اس موقع پر افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ ہور کرافٹس کی شمولیت پاکستان نیوی کے اُس وژن کی مظہر ہے، جو بحری دفاع کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ملک کی بحری سرحدوں، خصوصا کریکس کے ساحلی علاقے کے تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے مزید کہا کہ بحری تجارتی راستے اور بحری تحفظ محض ایک عسکری ضرورت نہیں بلکہ یہ قومی خودمختاری کی بنیاد اور معاشی خوشحالی و استحکام کا اہم ستون ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نیوی بحرِ ہند کے خطے میں امن و استحکام کی علمبردار اور علاقائی بحری سلامتی کی ایک اہم شراکت دار ہے، نیول چیف نے قوم کو یقین دلایا کہ پاکستان نیوی کی دفاعی صلاحیتیں اتنی ہی مضبوط ہیں جتنا کہ ہمارے حوصلے غیر متزلزل ہیں۔
دریں اثنا، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اعلان کیا ہے کہ کراچی اور لاہور کے فضائی روٹس میں آئندہ ہفتے کے لیے چند پروازوں کے راستوں میں تبدیلی کی جا رہی ہے تاکہ ’فضائی ٹریفک کی مسلسل حفاظت اور مؤثر انتظام‘ کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی اے اے کی جانب سے جاری نوٹم کے مطابق یہ پابندیاں 28 اکتوبر 2025 بروز منگل صبح 5 بج کر ایک منٹ سے مؤثر ہوں گی اور بدھ 29 اکتوبر 2025 صبح 9 بجے تک برقرار رہیں گی۔
نوٹم میں مزید کہا گیا کہ یہ ایک معمول کی حفاظتی اور عملی نوعیت کی کارروائی ہے، یہ قدم ‘آپریشنل وجوہات’ کی بنیاد پر اٹھایا جا رہا ہے تاکہ فضائی ٹریفک کے مؤثر انتظام اور حفاظت کو برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب، اوپن سورس ٹریکر ڈیمین سائمن (غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی ماضی میں حوالہ دیا ہے) نے بتایا کہ بھارتی فضائی حکام نے ایک روز قبل نوٹم جاری کیا تھا، جو ممکنہ طور پر کسی فوجی مشق یا ہتھیاروں کے تجربے کے لیے ہے، کیونکہ بھارت اپنی تینوں مسلح افواج کی مشترکہ مشق کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹریکر کے مطابق بھارت نے پاکستان کی مغربی سرحد کے ساتھ 30 اکتوبر سے 10 نومبر تک کے لیے نوٹم جاری کیا ہے، اور کہا ہے کہ ’منتخب کردہ علاقہ اور سرگرمی کا پیمانہ غیر معمولی ہے۔‘
اس کے ساتھ شیئر کردہ نقشے میں دکھایا گیا ہے کہ فوجی مشق کا علاقہ بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جیسلمیر سے لے کر سرکریک کے متنازع دلدلی علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ علاقہ دہائیوں سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تنازع کا باعث رہا ہے، اور سمندری سرحدی مسئلے پر مذاکرات تاحال غیر نتیجہ خیز رہے ہیں۔
بھارتی نیوز ادارے فرسٹ پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ نوٹم ’پاکستان کی سرحد کے ساتھ ایک بڑی فوجی مشق‘ کے لیے جاری کیا گیا ہے، جو آپریشن سندور کے بعد بڑھتی کشیدگی کے دوران ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مشق بھارتی فوج کی تین برانچوں مشتمل ہوگی، جس کا مقصد ملک کی ’مشترکہ عسکری صلاحیت، خود انحصاری اور جدت‘ کا مظاہرہ کرنا ہے۔
سر کریک تنازعہ کیا ہے؟
بھارتی وزیر کے دورہ گجرات کے دوران سر کریک پر پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان کے سبب ایک بار پھر تنازعہ سر کریک سرخیوں میں ہے۔
سر کریک بھارتی ریاست گجرات اور سندھ کے درمیان 96 کلومیٹر کے کیچڑ سے بھرے، غیر آباد دلدلی علاقہ ہے اور یہ تنگ راستہ کئی دہائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سب سے پیچیدہ تنازعات میں سے ایک رہا ہے۔
یہ زمین کی ایک ویران پٹی دکھائی دیتی ہے، تاہم اس میں تیل اور گیس کے ذخائر پر کنٹرول سے لے کر بحیرہ عرب میں سمندری حدود تک بہت سے امور شامل ہیں۔
تنازعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری حدود کی تشریح میں مضمر ہے۔ آزادی سے پہلے یہ علاقہ برطانوی بھارت کا حصہ تھا اور 1947 میں آزادی کے بعد سندھ پاکستان کا حصہ بنا جبکہ گجرات بھارت کا حصہ ہے۔
سر کریک تنازعہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سمندری حدود سے متعلق ہے۔ 1947 میں تقسیم کے بعد سندھ پاکستان کا حصہ بن گیا اور گجرات بھارت کے ساتھ رہا۔
بھارت چاہتا ہے کہ پہلے سمندری حدود کی حد بندی کی جائے اور پھر اس علاقے کا تفصیہ ہو جبکہ پاکستان کا اصرار ہے کہ پہلے تنازعے کا حل کیا جائے اور سمندر کی حد بندی ہو۔
پاکستان 1914 کی ایک قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پوری کریک سندھ سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ بھارت اپنی پوزیشن کی حمایت کے لیے 1925 کے نقشے کو پیش کرتا ہے۔
اس تنازعہ میں وقت کے ساتھ ساتھ کریک کے دھارے میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں، جس سے دونوں ممالک کی زمینی اور سمندری حدود کی تبدیلی کے ساتھ ہی سمندری علاقوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ظاہر ہے اسی لیے کوئی بھی فریق ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 147 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 195 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 125 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 134 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 221 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4534 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2441 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C