سعودی عرب میں پاکستانی لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجی تعینات
👁️ 359 بار دیکھا گیا
سعودی عرب میں پاکستانی لڑاکا طیارے اور ہزاروں فوجی تعینات
ریاض (ڈیلی اردو/روئٹرز) سعودی عرب میں پاکستانی لڑاکا طیاروں اور ہزاروں فوجی تعینات کیے جانے کی مکمل تفصیلات پہلی بار سامنے آئی ہیں، جن کی تصدیق تین سکیورٹی حکام اور دو حکومتی ذرائع نے کر دی ہے۔
ان تمام ذرائع کے مطابق یہ ایک بڑی، مکمل طور پر جنگی صلاحیت رکھنے والی فورس ہے، جس کا مقصد سعودی عرب پر مزید حملوں کی صورت میں مملکت کی فوجی مدد کرنا ہے۔
پاکستان کی فوج، دفتر خارجہ اور سعودی عرب کے سرکاری میڈیا دفتر نے اس تعیناتی سے متعلق تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ، جو گزشتہ سال طے پایا تھا، کی مکمل شرائط خفیہ رکھی گئی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک یہ کہہ چکے ہیں کہ 'کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا‘۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اس سے پہلے اشارہ دے چکے ہیں کہ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب پاکستان کے جوہری تحفظ کے دائرے میں آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے تقریباً 16 جنگی طیاروں پر مشتمل ایک مکمل اسکواڈرن سعودی عرب بھیجا، جن میں زیادہ تر چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے جے ایف-17 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
یہ طیارے اپریل کے آغاز میں سعودی عرب روانہ کیے گئے تھے۔ دو سکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان نے ڈرونز کے دو اسکواڈرن بھی روانہ کیے۔
پانچوں ذرائع کے مطابق اس تعیناتی میں تقریباً 8 ہزار فوجی شامل ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید فوج بھیجنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میں چین کا تیار کردہ ایچ کیو-9 فضائی دفاعی نظام بھی تعینات کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام عسکری سازوسامان پاکستانی اہلکار چلا رہے ہیں جبکہ اس کی مالی معاونت سعودی عرب کر رہا ہے۔
دو سکیورٹی حکام کے مطابق سعودی عرب میں تعینات کیے گئے فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر مشاورتی اور تربیتی کردار ادا کریں گے۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی خط و کتابت اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی سے متعلق دستاویزات دیکھی ہیں۔
تینوں سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اس نئی تعیناتی کے علاوہ بھی ہزاروں پاکستانی فوجی پہلے سے سعودی عرب میں مختلف معاہدوں کے تحت دفاعی کردار کے لیے موجود تھے۔
ایک حکومتی ذریعے، جس نے خفیہ دفاعی معاہدے کا متن دیکھا ہے، نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر 80 ہزار تک پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر مملکت کی سرحدوں کے تحفظ میں مدد کریں۔
دو سکیورٹی حکام نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا کوئی بحری جہاز سعودی عرب پہنچا ہے۔
دو سکیورٹی حکام کے مطابق سعودی عرب میں تعینات کیے گئے فوجی اور فضائیہ کے اہلکار بنیادی طور پر مشاورتی اور تربیتی کردار ادا کریں گے۔ ان حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی خط و کتابت اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی سے متعلق دستاویزات دیکھی ہیں۔
تینوں سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اس نئی تعیناتی کے علاوہ بھی ہزاروں پاکستانی فوجی پہلے سے سعودی عرب میں مختلف معاہدوں کے تحت دفاعی کردار کے لیے موجود تھے۔
ایک حکومتی ذریعے، جس نے خفیہ دفاعی معاہدے کا متن دیکھا ہے، نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ضرورت پڑنے پر 80 ہزار تک پاکستانی فوجیوں کو سعودی عرب تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ سعودی افواج کے ساتھ مل کر مملکت کی سرحدوں کے تحفظ میں مدد کریں۔
دو سکیورٹی حکام نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں پاکستانی جنگی بحری جہازوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاہم روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا کوئی بحری جہاز سعودی عرب پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق تعیناتی کی نوعیت اور حجم، جن میں لڑاکا طیارے، فضائی دفاعی نظام اور ہزاروں فوجی شامل ہیں، اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نے صرف علامتی یا مشاورتی مشن سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔
روئٹرز اس سے قبل رپورٹ کر چکا ہے کہ ایران کے حملوں میں سعودی عرب کے اہم توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے اور ایک سعودی شہری کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کو لڑاکا طیارے بھیجے تھے۔ ان حملوں کے بعد خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ خلیجی مملکت سخت ردعمل دے سکتی ہے اور تنازعہ مزید پھیل سکتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس وقت ہوئی جب بعد میں اسلام آباد اس جنگ میں اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں مدد دی، جو گزشتہ چھ ہفتوں سے برقرار ہے۔
اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے واحد امن مذاکرات کی میزبانی بھی اسلام آباد نے کی تھی، جبکہ مزید مذاکرات کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم بعد میں فریقین نے انہیں منسوخ کر دیا۔
روئٹرز یہ بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ سعودی عرب نے مملکت کے اندر کیے گئے حملوں کے جواب میں ایران پر متعدد غیر اعلانیہ حملے کیے تھے۔
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، جس میں تربیت اور مشاورتی مشنز شامل ہیں، جبکہ ریاض بھی مختلف معاشی بحرانوں کے دوران بارہا اسلام آباد کی مالی مدد کرتا رہا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ترکیہ: استنبول میں سیکیورٹی اداروں کی کاروائی ،داعش سے مبینہ تعلق رکھنے والا شخص ہلاک
04/September/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
شام: دمشق میں کارروائی، اسد دور کی معروف میڈیا شخصیت سنال الخضر گرفتار
04/September/2026 👁️ 41 بار دیکھا گیا
یمن : حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز میں شدید لڑائی، 80 سے زائد ہلاکتیں، کئی اہم مقامات پر قبضے اور واپسی
04/September/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
کشمیر: بھارتی سیکورٹی فورسز کی کاروائی ، ایک دہشتگرد ہلاک
04/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
بلوچستان : پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کا حملہ، جوابی کارروائی میں 3 حملہ آور ہلاک
04/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
قلات : سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 12 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
04/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26274 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15523 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11802 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9099 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7388 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5065 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C