01/November/2026

سعودی عرب کے شہر ابہا اور خمیس مشیط میں ہنگامی انتباہ جاری، شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت

👁️ 61 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب کے شہر ابہا اور خمیس مشیط میں ہنگامی انتباہ جاری، شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت

سعودی عرب کے شہر ابہا اور خمیس مشیط میں ہنگامی انتباہ جاری، شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت

ابہا(ڈیلی اردو) سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر ابہا اور صوبہ عسیر کے علاقے خمیس مشیط میں قومی ابتدائی انتباہی نظام کے ذریعے ہنگامی وارننگ جاری کی گئی، جس میں شہریوں اور رہائشیوں کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق اتوار یکم نومبر کو دونوں علاقوں میں قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو خبردار کیا گیا۔ حکام نے لوگوں کو پرسکون رہنے، سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور قریبی عمارت کے اندرونی حصے یا کھڑکیوں سے دور کسی محفوظ کمرے میں منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ خطرہ ٹلنے تک گھروں اور عمارتوں سے باہر نہ نکلیں، کھلی جگہوں، شیشوں، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہیں۔ باہر موجود افراد کو قریبی عمارت میں پناہ لینے یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے محفوظ مقام اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ ڈرائیوروں کو وارننگ ملنے پر پلوں اور بلند عمارتوں سے دور گاڑی روکنے کی ہدایت کی گئی۔

سول ڈیفنس نے عوام سے یہ بھی کہا کہ وہ خطرے والے مقامات کے قریب جمع ہونے اور تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔ حکام نے خبردار کیا کہ میزائلوں، ڈرونز یا ان کے ممکنہ اثرات سے متعلق غیر مجاز تصاویر اور معلومات پھیلانے سے قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

تاہم سعودی حکام نے ابتدائی انتباہ جاری کرتے وقت خطرے کی نوعیت، ممکنہ ہدف یا کسی مخصوص میزائل اور ڈرون کی موجودگی سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔ بعدازاں سعودی سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ ابہا اور خمیس مشیط دونوں علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو معمول کی سرگرمیاں بحال کرتے ہوئے بھی حفاظتی ہدایات پر عمل جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سعودی عرب کو حالیہ ہفتوں کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا بھی رہا ہے، تاہم حکام نے ابہا اور خمیس مشیط میں جاری کیے گئے مخصوص انتباہ کو کسی حملے سے منسلک نہیں کیا۔

دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے یکم نومبر کو ریاض کے علاقے میں ایک مشتبہ ڈرون کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق ڈرون کا ملبہ گرنے سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، تاہم اس واقعے میں بھی ڈرون بھیجنے والے فریق کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

سعودی عرب میں قومی ابتدائی انتباہی نظام موبائل فونز پر ہنگامی پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کا مقصد کسی ممکنہ خطرے کی صورت میں شہریوں کو بروقت خبردار کرنا اور ان کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C