15/May/2025

انڈیا کے ساتھ 18 مئی تک سیزفائر پر اتفاق، کشیدگی میں کمی متوقع: وزیر خارجہ

👁️ 105 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
انڈیا کے ساتھ 18 مئی تک سیزفائر پر اتفاق، کشیدگی میں کمی متوقع: وزیر خارجہ

انڈیا کے ساتھ 18 مئی تک سیزفائر پر اتفاق، کشیدگی میں کمی متوقع: وزیر خارجہ

اسلام آباد + لندن (ڈیلی اردو/سکائی نیوز) پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ اگر انڈیا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو پاکستان کی جانب سے “فوری اور یقینی جواب” دیا جائے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’’جنگ کی حمایت کر کے، انڈیا باہمی تباہی کا نسخہ تیار کر رہا ہے۔‘‘ اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں اور اس نوعیت کی کشیدگی عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا: > ’’جو بھی ہماری علاقائی سالمیت یا خودمختاری کی خلاف ورزی کرے گا، تو ہمارا جواب منہ توڑ ہو گا۔‘‘

’امریکا بھی انڈیا کی حماقتوں کو سمجھتا ہے‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکا، سمجھتی ہیں کہ انڈیا جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دنیا اب جوہری خطرے کی وسعت کو تسلیم کرتی ہے‘‘ اور ’’امریکا جیسا کوئی بھی ملک انڈیا کی ان حماقتوں کو سمجھتا ہے۔‘‘

کشمیر اقوام متحدہ کے ذریعے حل ہونا چاہیے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا: > ’’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہے۔‘‘

سیزفائر میں توسیع: 18 مئی تک معاہدہ

دوسری جانب، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا کے ڈائریکٹر جنرلز ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے 18 مئی تک سیزفائر پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ: > ’’10 مئی کو ڈی جی ایم اوز نے 12 مئی تک سیز فائر پر اتفاق کیا، پھر 14 مئی تک توسیع ہوئی، اور اب 18 مئی تک سیز فائر جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔‘‘

اسحاق ڈار کے مطابق، اگرچہ اس وقت فوجی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے، لیکن یہ معاملہ سیاسی مذاکرات کی طرف جائے گا، کیونکہ تمام تنازعات کا حل بات چیت میں ہے۔

سندھ طاس معاہدہ بھی مذاکرات کا حصہ

وزیر خارجہ نے انڈیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پلوامہ حملے کی طرح پہلگام واقعے کو استعمال کر کے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے پر حملہ کر سکے۔ اسحاق ڈار نے کہا: > ’’انڈیا جنوری 2023 سے سندھ طاس معاہدے پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ہر بار انڈین اعتراضات کا قانونی اور موثر جواب دیا ہے اور عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کا حالیہ بیان اس بات کی تصدیق ہے کہ انڈیا یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کر سکتا۔

سفارتی کوششیں یا نیا بحران؟

موجودہ صورتحال میں جہاں امریکی ثالثی کے بعد وقتی سیزفائر عمل میں آ چکی ہے، وہیں پاکستان کی جانب سے سخت بیانات اور سندھ طاس معاہدے کے گرد پیدا ہونے والے خدشات نئی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فوجی سطح پر مذاکرات کو سیاسی ڈائیلاگ میں نہ بدلا گیا، تو موجودہ سیزفائر عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C