19/January/2026

شامی فوج نے ملک کے سب سے بڑے آئل فیلڈ ‘العمر’ پر قبضہ کر لیا

👁️ 194 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شامی فوج نے ملک کے سب سے بڑے آئل فیلڈ ‘العمر’ پر قبضہ کر لیا

شامی فوج نے ملک کے سب سے بڑے آئل فیلڈ ‘العمر’ پر قبضہ کر لیا

دمشق (ڈیلی اردو/اے ایف پی/بی بی سی)  شامی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی فوج نے ملک کے شمال میں واقع شہر طبقہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس وقت مختلف علاقوں میں ’کومبنگ آپریشنز‘ جاری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ کسی بھی قسم کے سکیورٹی خطرات سے پاک ہیں۔

 

اتوار کو تین سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شامی فوج، جو کرد قیادت والی فورسز کے خلاف برسرِ پیکار ہے، نے شام کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے ’العمر‘ اور مشرقی علاقے میں ’کونیكو‘ گیس فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔

 

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے اتوار کو العمر آئل فیلڈ سے دستبرداری اختیار کر لی، جو شام کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے، جو صوبہ دیر الزور کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔

 

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز اتوار کو علی الصبح مشرقی دیر الزور کے دیہی علاقوں میں ان کے زیر کنٹرول تمام علاقوں سے پیچھے ہٹ گئیں، جن میں العمر اور التنیک آئل فیلڈز شامل ہیں جبکہ دیر الزورگورنری نے ’شہریوں سے ہسپتال، سکولوں اور سرکاری املاک جیسی سہولیات کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔‘

 

اتوار کو شامی حکام نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) پر شمالی شام میں دریائے فرات پر دو بڑے پلوں کو اڑانے کا الزام لگایا، سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا کے مطابق فوج کے اعلان کے فوراً بعد جب اس نے سٹریٹجک شہر الطبقة اور ملحقہ فرات ڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جہاں کرد فورسز موجود تھیں۔

 

ثنا نے صوبہ الرقة کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے حوالے سے کہا کہ ’ایس ڈی ایف نے الرقة شہر میں نیا پل (الرشید) دھماکے سے تباہ کر دیا۔‘ اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ایس ڈی ایف نے ’پرانا پل‘ بھی تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں الرقة شہر کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔

 

فوجی ذرائع کے مطابق شامی فوج نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب الطبقة شہر اور سد الفرات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ شہر میں فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور بکتر بند گاڑیاں تعینات ہیں، جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

 

ایس ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز ’دمشق کے مسلح عناصر‘ کے خلاف شدید لڑائی میں مصروف ہیں، خاص طور پر منصورہ قصبے میں جو الطبقة سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔

 

الطبقة شہر، جو سد الفرات کے قریب ہے، شام کا سب سے بڑا ڈیم اور توانائی کا اہم مرکز ہے۔ یہ شہر حلب کو مشرقی شام سے جوڑنے والا اہم مواصلاتی مرکز بھی ہے اور اس کے قریب واقع فوجی فضائی اڈے کو امریکی افواج نے برسوں تک استعمال کیا۔

 

کرد انتظامیہ نے الرقة میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، جبکہ امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل براد کوپر نے شامی حکومت کو ’کسی بھی جارحانہ کارروائی‘ روکنے کی اپیل کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

 

شامی حکومت کی مذمت

 

شامی حکومت نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ ’قسد اور اس سے منسلک پی کے کے گروہوں نے الطبقة شہر میں قیدیوں کو قتل کر دیا ہے‘۔

 

سانا نے تصاویر جاری کی ہیں جن میں دیر الزور کے علاقے میں قسد کے انخلا کے بعد فوجی دستوں کی موجودگی دکھائی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور صرف ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ہدایت دی ہے۔

 

شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے الطبقة فوجی اڈے، سد الفرات، سد المنصورة اور کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ فوج نے مزید بتایا کہ وہ الرقة شہر کے مغربی داخلی راستے سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئی ہے۔

 

قسد نے دمشق پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بین الاقوامی ثالثی کے تحت طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ قسد کے مطابق، شامی فوج نے دير حافر اور مسكنة میں داخل ہو کر ان کے انخلا کو خطرے میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں اور ان کے کئی جنگجو ہلاک ہوئے۔

 

ترکی کے جنوب مشرقی شہروں میں کرد اکثریتی علاقوں میں عوام نے قسد کے حق میں مظاہرے کیے۔

 

سانا کے مطابق شامی فوج نے ’صفیان‘ اور ’الثورة‘ آئل فیلڈز پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری پٹرولیم کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ذخائر کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

 

شامی عبوری صدر احمد الشرع نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت پہلی بار کرد زبان کو ’قومی زبان‘ اور نوروز کو ’قومی تہوار‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شام میں مقیم تمام کرد باشندوں کو شہریت دی گئی ہے۔

 

اربیل میں امریکی نمائندے ٹوم باراک اور قسد کے کمانڈر مظلوم عبدي نے ملاقات کی۔ اس موقع پر مسعود بارزانی نے زور دیا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے مکالمہ اور پرامن ذرائع اپنانا ضروری ہے۔

 

ایس ڈی ایف کیا ہے؟

 

ایس ڈی اایف یا قسد (قوات سوريا الديمقراطية) اکتوبر 2015 میں قائم ہوئی۔ یہ فورس وائے پی جی اور وائے پی جے پر مشتمل ہے، جو کرد جماعت پی وائے ڈی کے عسکری ونگ ہیں، اور اس میں دیگر نسلی گروہوں کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ قسد شمالی و مشرقی شام کے خودمختار علاقوں میں غالب عسکری قوت ہے۔

 

ترکی قسد کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیتا ہے اور اسے پی کے کے کا تسلسل سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ میں قسد کو اپنا اہم اتحادی بنایا۔ قسد نے مارچ 2019 میں داعش کے خلاف فتح کا اعلان کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C