02/September/2026

شام : کرد خواتین جنگجوؤں کا فوج میں شمولیت کا مطالبہ مسترد، متبادل راستے کی تلاش

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام : کرد خواتین جنگجوؤں کا فوج میں شمولیت کا مطالبہ مسترد، متبادل راستے کی تلاش

شام : کرد خواتین جنگجوؤں کا فوج میں شمولیت کا مطالبہ مسترد، متبادل راستے کی تلاش

دمشق(ڈیلی اردو) شام میں کرد خواتین جنگجوؤں کی تنظیم کو ملکی فوج میں الگ یونٹ کے طور پر شامل کرنے کی تجویز پر پیش رفت نہ ہوسکی، جس کے بعد تنظیم نے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سکیورٹی فورسز میں شمولیت کا راستہ تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔

وائی پی جے کے نام سے جانی جانے والی خواتین جنگجو تنظیم کی کمانڈر نوروز احمد کے مطابق انہوں نے گزشتہ ہفتے دمشق میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی، جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کی خواتین جنگجوؤں کو موجودہ فوجی ڈھانچے میں شامل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

نوروز احمد کا کہنا ہے کہ تنظیم نے اپنی جنگی مہارت اور سابقہ تجربے کی بنیاد پر خواتین پر مشتمل ایک علیحدہ بریگیڈ یا بٹالین کو فوج کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم ان کے مطابق اس تجویز کو قبول نہیں کیا گیا۔

تنظیم کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ خواتین جنگجوؤں کو چھوٹے گروپوں میں تقسیم کرکے مختلف علاقوں میں انفرادی طور پر تعینات کرنے کے بجائے ایک منظم فورس کی صورت میں برقرار رکھا جائے، تاہم اس شرط پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا۔

فوج میں شمولیت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد خواتین جنگجوؤں نے وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا ہے۔ نوروز احمد کے مطابق وزارتِ داخلہ کے تحت اسپیشل آپریشنز فورس میں شمولیت کی تجویز زیر غور ہے اور اس حوالے سے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق وائی پی جے میں 1500 سے زائد خواتین جنگجو شامل ہیں۔ شامی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین جنگجوؤں کے لیے وزارت کے اداروں میں شمولیت کا راستہ موجود ہے، تاہم ان کی ذمہ داریوں اور تعیناتی کی تفصیلات ابھی واضح نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب حکام کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے تحت فورسز کو شام کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا جاسکتا ہے، جس کے باعث خواتین جنگجوؤں کی اپنی تشکیل کو برقرار رکھنے اور مخصوص جغرافیائی علاقے تک محدود رہنے کی خواہش کے درمیان اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام میں سابق مسلح گروہوں کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل جاری ہے۔ کرد قیادت کی فورسز بھی اس عمل کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم خواتین جنگجوؤں کی الگ تنظیم کے مستقبل اور ریاستی سکیورٹی اداروں میں ان کے کردار کا معاملہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوسکا۔

وائی پی جے کی خواتین جنگجوؤں نے داعش کے خلاف لڑائی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور شمالی و مشرقی شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران وہ عالمی سطح پر بھی نمایاں ہوئیں۔

خواتین جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ صرف فوج میں ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ جنگ کے دوران خواتین کو حاصل ہونے والے سماجی اور سیاسی کردار کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ تنظیم کی قیادت شام کے مستقبل کے سیاسی و آئینی نظام میں خواتین جنگجوؤں کے کردار کے واضح تعین کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C