25/March/2024

شمالی وزیرستان: آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کیلئے 35 کروڑ روپے جاری

👁️ 36 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی وزیرستان: آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کیلئے 35 کروڑ روپے جاری

شمالی وزیرستان: آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کیلئے 35 کروڑ روپے جاری

پشاور (ڈیلی اردو) صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کے لیے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔

پشاور سے پراوینشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی ڈائریکٹر ثوبیہ حسام طورو کے مطابق متاثرین شمالی وزیرستان کےلیے 35 کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق فنڈز 17 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ خاندانوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کو 20 ہزار روپے نقد اور راشن الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ رقوم ان متاثرہ خاندانوں کو دی جا رہی ہیں جن کی ابھی واپسی نہیں ہوئی۔

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے کہا کہ عید سے پہلے متاثرین کو ایک اور قسط مل جائے گی۔

سرکاری عداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 10 ہزار خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر نکل گئے تھے جن میں سے اب بھی 15 ہزار چھ سو خاندان متاثرین کیمپ بکا خیل میں موجود ہیں۔ ان میں زیادہ تر افغان سرحد کے قریب مداخیل اور دتہ خیل قبائل شامل ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 15 ہزار مکانات تباہ ہوئے جبکہ میران شاہ اور میرعلی کے بازاروں میں 20 ہزار سے زیادہ دوکانیں اور مارکٹیں بھی مکمل طور زمین بوس ہوگئیں۔ حکومت کی طرف سے تباہ شدہ مکانات اور دوکانوں کے مالکان کو مناسب معاوضہ دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں جون 2014 کو دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے آپریشن شروع کیا تھا۔ جس میں پاک فوج نے دہشت گردوں کا قلع قمع کیا تھا۔ تاہم اس آپریشن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مقامی لوگ بھی بے گھر ہو گئے تھے۔

بنوں، پشاور اور دیگر علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے آئی ڈی پیز کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کی ’امارت‘ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان کو تو دہشت گردوں سے خالی کروالیا گیا ہے تاہم بیشتر طالبان تنظیموں کی قیادت بدستور محفوظ ہے۔

واضح رہے کہ آپریشن ضرب عضب جب شروع ہوا تو حکومت کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد دہشت گردی کی تمام بیماریوں کا خاتمہ کرنا ہے جس میں خودکش دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور تعلیمی اداروں جیسی جگہوں کو نشانا بنانے جیسے حملے شامل تھے، تاہم دہشت گردی کا خاتمہ ہوا اور نہ ٹارگٹ کلنگ رک سکی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C