16/March/2024

شمالی وزیرستان میں خودکش حملے،لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 فوجی ہلاک، 20 سے زائد زخمی، 6 حملہ آور بھی ہلاک

👁️ 29 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی وزیرستان میں خودکش حملے،لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 فوجی ہلاک، 20 سے زائد زخمی، 6 حملہ آور بھی ہلاک

شمالی وزیرستان میں خودکش حملے،لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 فوجی ہلاک، 20 سے زائد زخمی، 6 حملہ آور بھی ہلاک

اسلام آباد (ڈیلی اردو/وی او اے/بی بی سی/اے ایف پی/رائٹرز) پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر عسکریت پسندوں کےحملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں لیفٹننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

یوں اس خونریز حملے میں مجموعی طور پر پاکستانی فوج کے 7 ارکان اور مارے جانے والے تمام 6عسکریت پسندوں کے ساتھ ہلاک شدگان کی کُل تعداد 13 بنتی ہے۔

افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی ہفتے کی صبح فوج کی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس کے بعد یکے بعد دیگرے خودکش دھماکے کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حملے میں پانچ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جس کے بعد لیفٹننٹ کرنل کی قیادت میں ایک کلیئرنس آپریشن کیا گیا جس میں تمام چھ دہشت گرد مارے گئے۔حملہ آوروں میں خود کش بمبار بھی شامل تھے۔

البتہ فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹننٹ کرنل سید کاشف علی اور کیپٹن محمد احمد بدر بھی ہلاک ہوگئے۔

وائس آف امریکہ کے مطابق واقعے میں 20 سے زائد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ شدید زخمی افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بنوں کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکام نے شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے میر علی میں کرفیو جیسی صورتِ حال نافذ کر دی ہے۔

بنوں سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی محمد وسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بنوں اور شمالی وزیرستان کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ بند ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے کے بعد کافی دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

مقامی قبائلی افراد کے مطابق خودکش حملے کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کے زیادہ تر کمرے اور بیرکس منہدم ہو گئے ہیں۔ کیمپ سے ملحقہ بازار خدی مارکیٹ میں درجنوں دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

شمالی وزیرستان میں اس حملے کی جگہ کے قریبی علاقوں کے رہنے والے مقامی باشندوں میں سے متعدد نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ابتدائی دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور کئی مکانات کے دروازوں اور کھڑکیوں تک کو نقصان پہنچا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق مقامی لوگوں کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں قریب موجودخدی مارکیٹ کو نقصان پہنچا ہے جس میں دکانوں کے شیشے اور شٹر اکھڑ گئے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے مطانق آخری خبریں آنے تک کسی بھی عسکریت پسند گروپ یا دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔ ماضی میں پاکستان میں ایسے حملے، خاص کر افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریبی علاقوں میں کی جانے والی خونریز کارروائیوں کا ذمے دار پاکستانی حکام یا تو مقامی طالبان کی ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو قرار دیتے رہے ہیں یا پھر یہ تنظیم خود ہی ایسے حملوں کی ذمے داری قبول کر لیتی تھی۔

پاکستان حکام کے مطابق ملک میں ٹی ٹی پی کی طرف سے ایسے بہت سے حملے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے کیے جاتے ہیں اور یہ بھی ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C