30/September/2025

صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کیلئے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، پاکستان کا خیرمقدم

👁️ 262 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کیلئے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، پاکستان کا خیرمقدم

صدر ٹرمپ اور نتن یاہو کا غزہ کیلئے نئے امریکی امن منصوبے پر اتفاق، پاکستان کا خیرمقدم

واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو کے ساتھ غزہ امن مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ’بہت قریب ہے‘۔

 

دونوں رہنماؤں نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے 20 نکاتی امن منصوبے کی حمایت کی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسے یہ تجویز باضابطہ طور پر نہیں بھیجی گئی۔

 

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر حماس اس منصوبے پر راضی نہ ہوتے تو اسے ’تباہ کرنے‘ کے لیے نتن یاہو ’جو کچھ کرنا ہے‘ وہ کریں گے۔

 

مجوزہ منصوبے میں اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ بھی شامل ہے جس کی سربراہی ٹرمپ کر رہے ہیں۔

 

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

اسرائیلح وزیر اعظم کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’آج کا دن امن کے لیے تاریخی دن ہے۔‘

 

ان کا کہنا تھا کہ وہ 21 اصولوں پر مشتمل امن منصوبے کو باضابطہ طور پر جاری کر رہے ہیں جسے ان کے بقول ’لوگوں نے واقعی پسند کیا ہے۔‘

 

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک کی طرف سے اس منصوبے کے بارے میں اِن پُٹ موصول ہوا ہے۔

ٹرمپ نے یورپ میں اپنے بہت سے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس تجویز کو تیار کرنے میں ’عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں‘ کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

 

’شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے منصوبے کی 100 فیصد حمایت کی‘

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع سے ہمارے ساتھ تھے، درحقیقت انہوں نے ابھی ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کی سو فیصد حمایت کرتے ہیں۔’

امریکی صدر نے نیتن یاہو کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے منصوبے سے اتفاق کیا اور ’ یہ اعتماد کیا کہ اگر ہم مل کر کام کریں تو ہم علاقے میں موت اور تباہی کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔’

 

امریکی صدر ٹرمپ نے تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر امن منصوبے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی لاشیں فوری طور پر واپس کر دی جائیں گی۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ ’جنگ کا فوری خاتمہ‘۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’عرب اور مسلم ممالک نے اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر غزہ کو فوری طور پر ’غیر عسکری بنانے‘ کا وعدہ کیا ہے۔

 

اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حماس کی سرنگوں اور پیداواری تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا۔

 

منصوبے کے تحت مقامی پولیس فورسز کی تربیت کی جائے گی اور اسرائیلی دفاعی افواج غزہ سے مرحلہ وار انخلا کریں گی۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’نتن یاہو ایک ’جنگجو‘ ہیں جو ’معمول کے طرز زندگی پر واپس آنے‘ کے بارے میں نہیں جانتے۔ اسرائیل خوش قسمت ہے کہ وہ اس کے پاس ہیں لیکن اس کے لوگ امن اور ’حقیقی معنوں میں معمول پر آنے‘ کے لیے تیار ہیں۔‘

 

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بہت سے فلسطینی ہیں جو امن سے رہنا چاہتے ہیں ، لیکن انھیں اپنی قسمت کی ذمہ داری لینے خود لینی ہوگی۔

 

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’فلسطینیوں نے حماس کے ساتھ ’مشکل زندگی‘ گزاری ہے۔ لیکن اگر وہ ان کے منصوبے سے متفق نہیں ہیں تو ، انھیں اپنے آپ کو الزام دینا ہوگا۔ ‘

 

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اب یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس ’انتہائی منصفانہ‘ تجویز کو قبول کرے۔ ‘

ان کا کہنا ہے کہ ’امن قائم کرنے کا کام آسان نہیں ہوگا ، لیکن کوشش نہ کرنے سے بہت ساری جانیں داؤ پر لگی رہیں گی۔‘

 

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ آج کی ملاقات نہ صرف غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امن بات بات چیت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

 

نتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کا کہ ’میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے آپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہوں۔ ‘

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیل کو دوبارہ حماس کی طرف سے خطرہ نہیں ہے۔‘

 

انھوں نے اسرائیل کے فوجیوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے بقول ’بربریت‘ کے خلاف ’شیروں کی طرح‘ لڑتے ہیں۔

نتن یاہو کا کہنا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو زندہ اور مردہ 72 گھنٹوں کے اندر واپس کر دیا جانا چاہیے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ’تمام فریقین کو پرامن طریقے سے ایسا کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے لیکن اگر حماس اس منصوبے کو مسترد کر دیتی ہے یا وہ اسے قبول کرتے ہیں تو اس پر عمل نہ کریں تو ’ہم کام مکمل کر لیں گے‘۔

انھوں نے کہا ،’یہ آسان طریقے سے ہو یا یہ مشکل طریقے سے، لیکن یہ کیا جائے گا۔‘

 

نتن یاہو کا کہنا تھا کہ انھوں نے حماس کے غزہ میں رہنے کے لیے یہ ’خوفناک‘ جنگ نہیں لڑی۔

 

انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ میں ’بنیاد پرست اور حقیقی تبدیلی‘ سے گزرے بغیر کوئی کردار نہیں رکھ سکتی۔

 

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ امن منصوبہ غزہ اور پورے مشرق وسطیٰ کے خطے کے لیے ’ایک نئی شروعات‘ ہو سکتا ہے اور ابراہم معاہدے کو ’دوبارہ متحرک کیا جا سکتا ہے‘' اور اسے دیگر عرب اور مسلم ممالک تک پھیلایا جا سکتا ہے۔ ‘

 

اہم نکات

 

صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے اس منصوبے میں حصہ لیا ہے۔

 

یرغمالیوں کی رہائی

 

امریکی صدر نے کہا کہ منصوبے کے حصے کے طور پر تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر واپس کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ غزہ کو ’غیر عسکری‘ بنایا جائے گا اور اسرائیل سکیورٹی کا دائرہ برقرار رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں ایک پرامن سویلین انتظامیہ ہوگی۔

 

حماس کا خاتمہ

 

ٹرمپ نے کہا کہ حماس کا خطرہ ختم ہو جائے گا، عرب اور مسلم ممالک حماس کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

 

امن بورڈ کا قیام

 

انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کی سربراہی میں امن بورڈ اس منصوبے کی نگرانی کرے گا، انھوں نے مزید کہا کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بورڈ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

 

حماس

 

حماس ابھی تک اس معاہدے پر راضی نہیں ہوئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس ’انتہائی منصفانہ‘ تجویز کو قبول کرے۔ ٹرمپ نے کہا کہ فلسطینیوں نے حماس کے ساتھ ’مشکل زندگی‘ گزاری ہے ، لیکن اگر وہ ان کے منصوبے سے راضی نہیں ہوتے ہیں تو پھر انہی کو ہی قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔

 

منصوبے سے اسرائیلی مقاصد کا حصول

 

اسرائیلی وزیر اعظم بینامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے اسرائیل کے جنگی مقاصد حاصل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حماس کے غزہ میں رہنے کے لیے یہ ’خوفناک‘ جنگ نہیں لڑی گئی۔

 

حماس کاوقف 

 

حماس کا کہنا ہے کہ اسے امریکی جنگ بندی کی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

 

حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس گروپ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے جنگ بندی کا کوئی اقدام موصول نہیں ہوا ہے۔

 

عہدیدار نے کہا کہ حماس غزہ میں جنگ کا خاتمہ کرنے والی کسی بھی تجویز کا مطالعہ کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے میں فلسطینیوں کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے، غزہ سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنانا چاہیے اور جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

 

گروپ کے ہتھیاروں کے بارے میں پوچھے جانے پر عہدیدار نے کہا کہ ’جب تک قبضہ جاری رہے گا مزاحمت کے ہتھیار ایک سرخ لکیر ہیں۔‘

 

انھوں نے کہا کہ ’ہتھیاروں کے مسئلے پر صرف ایک ایسے سیاسی حل کے فریم ورک میں بات کی جا سکتی ہے جو 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دیتا ہے۔‘

 

پاکستان کا خیر مقدم 

 

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی لانے کے لیے فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن ناگزیر ہو گا۔‘

 

انھوں نے طویل پوسٹ مںی مزید لکھا کہ ’یہ بھی میرا پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس انتہائی اہم اور فوری مفاہمت کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن مدد کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ میں صدر ٹرمپ کی قیادت اور اس جنگ کے خاتمے میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے اہم کردار کو سراہتا ہوں۔‘

 

’میں اس بات پر بھی پختہ یقین رکھتا ہوں کہ خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔‘

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C