31/January/2026

صدر ٹرمپ کی مداخلت پر روسی صدر پوٹن نے کییف پر حملے روک دیے

👁️ 171 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
صدر ٹرمپ کی مداخلت پر روسی صدر پوٹن نے کییف پر حملے روک دیے

صدر ٹرمپ کی مداخلت پر روسی صدر پوٹن نے کییف پر حملے روک دیے

واشنگٹن (ڈیلی اردو)امریکہ کی درخواست پر روس نے یکم فروری تک کییف پر فضائی حملے روکنے پر اصولی رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ اقدام شدید سرد موسم کے دوران ممکنہ انسانی تباہی کو روکنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین نے بھی کہا ہے کہ اگر روس حملے روکے گا تو وہ بھی اپنی جنگی کارروائیاں روک دے گا۔

 

تاہم یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی باقاعدہ جنگ بندی پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق روس نے توانائی کے ڈھانچوں کی بجائے یوکرین کے شہری ڈھانچوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں روسی حملوں سے یوکرینی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 

روسی صدر دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ صدر ولادیمیر پوٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی درخواست قبول کی ہے، جس میں کییف پر بمباری وقتی طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ امن بات چیت کے لیے مناسب ماحول پیدا کیا جا سکے۔

 

حالیہ ہفتوں میں روسی حملے یوکرین کے توانائی نظام کو بری طرح متاثر کر رہے تھے، جس سے شدید سردیوں میں شہری کئی دن تک بجلی اور حرارت سے محروم رہے۔

 

یوکرین کے لیے آنے والے  دن انتہائی مشکل ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ موسم کی پیش گوئی میں کییف کا درجہ حرارت منفی 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس کے حالیہ حملوں کے باعث شہر کے درجنوں رہائشی بلاکس ہیٹنگ سے محروم ہیں۔ 

 

یوکرین پر مسلط کردہ یہ جنگ آئندہ ماہ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو جائے گی۔ اس جنگ کے خاتمے کے لیے عالمی سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C