27/September/2025

عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

👁️ 294 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

نیو یارک (ڈیلی اردو )  اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں ’’کام مکمل کرنا ہوگا‘‘۔ انہوں نے حماس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا، حالانکہ عالمی برادری ان پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا رہی ہے۔

 

نیتن یاہو کے خطاب سے قبل درجنوں ممالک کے نمائندے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ ہال میں ان کے خلاف نعرے بھی لگے جبکہ امریکی وفد اپنی نشستوں پر موجود رہا مگر اعلیٰ سطحی نمائندے غیر حاضر تھے۔

 

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعے کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کے دوران کہاں کہ اسرائیل دہشت گردوں کے خلاف آپ سب کی جنگ لڑ رہا ہے۔

 

نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے آغاز پر ایک نقشہ دکھایا جس میں ایران، عراق، شام اور لبنان نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب کا آغاز اسے تباہ کرنے کے مطالبے سے کیا جسے وہ ’ایران کی سربراہی میں دہشت گردی کا محور‘ کہہ رہے تھے۔

 

انھوں نے کہا کہ پچھلے سال ہونے والے حملوں میں ’ہم نے ہزاروں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔‘

 

نیتن یاہو نے کہا کہ ’یہ دہشت گردی کا محور پوری دنیا کے امن، ہمارے خطے کے استحکام اور میرے ملک اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ تھا۔‘

 

انھوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال کے دوران اسرائیل نے ’حوثیوں کو کچلا‘، ’حماس کو غزہ کے بیشتر حصے میں تباہ کر دیا‘ اور ’حزب اللہ کو مفلوج کر دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کر دیا۔‘

 

انھوں نے کہا کہ اب تک ہم اپنے یرغمالیوں میں سے 207 کو واپس لا چکے ہیں اور مزید بتایا کہ غزہ میں موجود باقی 48 میں سے 20 زندہ ہیں۔

اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ کی سرحد پر لگے لاؤڈسپیکرز کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی مدد سے میں براہِ راست اپنی یرغمالیوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں۔‘

 

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے آپ کو فراموش یا بھلایا نہیں ہے،‘ اور مزید کہا کہ ’ملک اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے گا جب تک ہم آپ سب کو واپس نہ لے آئیں۔‘

اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے حماس سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’اگر آپ ہتھیار ڈال دیں تو جنگ ابھی ختم ہو سکتی ہے۔‘

 

تاہم جیسے ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سٹیج پر آئے تو درجنوں افراد احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے جبکہ دیگر نے تالیاں بجا کر اُن کا استقبال کیا۔

جیسے ہی نیتن یاہو کی تقریر نیویارک میں شروع ہوئی، جنوبی اسرائیل میں غزہ کی سرحد پر نصب لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے ان کے الفاظ غزہ کی پٹی میں نشر کیے گئے۔

 

اقوام متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر سے قبل اُن کے دفتر کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ایک ’اطلاعیتی کوشش‘ کے حصے کے طور پر غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر اسرائیلی علاقوں میں ٹرکوں پر لاؤڈ سپیکر نصب کیے گئے ہیں۔

 

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان لاؤڈ سپیکروں کے نصب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اقوامِ متحدہ میں کی جانے والی تقریر غزہ کے علاقے میں نشر کی جائے گی۔

 

دوسری جانب جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے افتتاح پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مندوبین کو بتایا تھا کہ غزہ میں بین الاقوامی قانون کو ’پامال‘ کیا جا رہا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے خطے میں ’دو ریاستی حل‘ کے مطالبے کو دہرایا۔

 

یہ خطاب ایک ایسے وقت میں ہوا جب آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرچکے ہیں اور یورپی یونین بھی اسرائیل پر ممکنہ پابندیوں پر غور کر رہی ہے۔

 

سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے دہشت گردانہ حملوں میں بارہ سو اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ 

 

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک ان اسرائیلی کارروائیوں میں 65 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور 90 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ 

 

فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک روز قبل ویڈیو لنک کے ذریعے جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ فلسطینی عوام کو ان کے ’’جائز حقوق‘‘ دلوائے جائیں اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے۔

 

نیتن یاہو نے تاہم اپنی تقریر میں دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ’’حماس کو انعام دینے‘‘ کے مترادف ہوگا اور وہ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

 

حماس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اقوامِ متحدہ میں خطاب پر ٹیلیگرام پر ایک طویل بیان میں ردعمل سامنے آیا ہے۔

 

حماس، جو کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین میں کالعدم تنظیم ہے نے اسرائیلی وزیراعظم کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے ایک ’گمراہ کن‘ تقریر کی جس میں ’کھلے عام جھوٹ اور تضادات کی ایک لمبی فہرست‘ شامل تھی۔‘

 

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جھوٹ سچائی کو نہیں بدل سکتا اور دنیا اب اس بات سے ’زیادہ باخبر‘ ہو گئی ہے کہ اسرائیل غزہ میں کیا کر رہا ہے۔‘

حماس کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جاری کارروائیوں کو ’منظم قتلِ عام‘ پر مبنی ’قبضہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

 

حماس کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر پر اپنے ردِ عمل کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ’ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں قتل و غارت گری کو روکے۔ اسرائیل کو علاقے سے انخلا پر مجبور کرے، خوراک اور ادویات کی ترسیل کو یقینی بنائے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدامات مکمل کرے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C