29/October/2026

عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ، شہری زخمی، املاک کو نقصان؛ فضائی آمدورفت معطل

👁️ 49 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ، شہری زخمی، املاک کو نقصان؛ فضائی آمدورفت معطل

عدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کا حملہ، شہری زخمی، املاک کو نقصان؛ فضائی آمدورفت معطل

صنعاء(ڈیلی اردو) یمن کے جنوبی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران نواز حوثی باغیوں کے حملے کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج اور یمنی حکام کے مطابق یہ حملہ بدھ 28 اکتوبر کو اس وقت ہوا جب حوثیوں نے پہلے ہی ایئرپورٹ خالی کرنے کی وارننگ جاری کی تھی۔ واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر فضائی آمدورفت عارضی طور پر روک دی گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عدن کے رہائشیوں نے ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کی آواز سنی۔ یمنی حکام نے حملے میں شہریوں کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی، جبکہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق حملے کے بعد پروازوں کی آمدورفت معطل کردی گئی۔ امدادی ذرائع نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے بعض اہلکار حملے سے کچھ دیر پہلے ایئرپورٹ سے نکل چکے تھے اور وہ محفوظ رہے۔ امدادی کارکنوں کو لے جانے والی ایک پرواز بھی واقعے سے پہلے بحفاظت روانہ ہوگئی تھی۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایئرپورٹ خالی کرنے کی وارننگ وہاں اسلحہ لے جانے والے سعودی فوجی کارگو طیارے کی موجودگی کے باعث دی گئی تھی۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا اور طیارے میں اسلحہ موجود ہونے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 28 اکتوبر کو عدن ایئرپورٹ کے احاطے میں حملے کی ایک اور اطلاع بھی سامنے آئی۔ ایک مقامی پولیس اہلکار نے بتایا کہ میزائل نے ایئرپورٹ کے اندر سعودی فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقے کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل اکتوبر میں بھی ایئرپورٹ کے قریب میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں، جس سے یمن میں جاری لڑائی کے دوران شہری ہوابازی اور اہم تنصیبات کی سلامتی پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

عدن بین الاقوامی ہوائی اڈا یمن کے ان علاقوں کے لیے ایک اہم فضائی رابطہ ہے جو حوثیوں کے کنٹرول میں نہیں، جبکہ امدادی کارکنوں، طبی سامان اور انسانی امداد کی ترسیل میں بھی اس کی اہمیت ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے، جبکہ حوثی باغی دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے بڑے شمالی علاقوں پر قابض ہیں۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حوثیوں اور یمنی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث باب المندب کے قریب بحری سلامتی اور تجارتی راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ثالثی سے 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا نسبتاً پُرسکون ماحول بھی دوبارہ لڑائی بڑھنے سے متاثر ہوا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C