28/December/2025

علوی مسجد پر بم دھماکہ، شام فرقہ وارانہ آگ کی لپیٹ میں

👁️ 230 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
علوی مسجد پر بم دھماکہ، شام فرقہ وارانہ آگ کی لپیٹ میں

علوی مسجد پر بم دھماکہ، شام فرقہ وارانہ آگ کی لپیٹ میں

دمشق (ڈیلی اردو) شام میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علوی مذہبی اقلیت کے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور اس دوران دو افراد ہلاک ہو گئے۔ 

 

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ دو لاشیں ایک مقامی ہسپتال منتقل کی گئی ہیں۔

 

شامی حکام نے فائرنگ کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ انہوں نے ’’صورتحال پر قابو پا لیا‘‘ ہے۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق حکمران بشار الاسد کی حکومت کے ’’بچ جانے والے کچھ عناصر‘‘ نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا۔

 

یہ واقعہ حمص شہر میں ایک علوی مسجد میں بم دھماکے کے دو دن بعد رونما ہوا ہے۔ اس بم دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد کے ہلاک جبکہ اٹھارہ زخمی ہوئے تھے۔

 

اس حملے کے بعد ہزاروں مظاہرین الاذقیہ، طرطوس اور دیگر شہروں میں جمع ہوئے۔ حکام نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد مسجد کے اندر نصب کیا گیا تھا لیکن جمعے  کو ہوئے اس دھماکے کے سلسلے میں ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہوئی۔

 

شام کے ایک کم معروف گروپ سرایا انصار السنہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹیلیگرام پر بیان جاری کیا تھا کہ حملے کا مقصد علوی فرقے کے ارکان کو نشانہ بنانا تھا۔ علوی فرقہ شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے، جسے سخت گیر اسلام پسند ’غیر مسلم‘ قرار دیتے ہیں۔

 

شام کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی کہ طرطوس میں پولیس اسٹیشن پر دستی بم پھینکنے سے سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے، اور الاذقیہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

 

دسمبر سن 2024 میں صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام میں متعدد مرتبہ ایسی جھڑپیں رونما ہو چکی ہیں۔ حکومتی اہلکاروں نے جمعے کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C