05/September/2022

عمران خان کے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بیان پر فوج میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، آئی ایس پی آر

👁️ 35 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عمران خان کے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بیان پر فوج میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، آئی ایس پی آر

عمران خان کے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق بیان پر فوج میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، آئی ایس پی آر

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان آرمی میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ ہے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو ایک ایسے وقت میں بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ ادارہ آئے روز پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ کے لیے جانیں دے رہا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان آرمی کے چیف کی تقرری، جس کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، پر تنازعات کو ہوا دینے کی کوشش کرنے والے سینئیر سیاستدانوں کا یہ طرز عمل انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی فوج کی سینئر قیادت کی اہلیت اور حب الوطنی اُن کی دہائیوں پر محیط بے داغ اور شاندار عسکری خدمات سے عیاں ہے۔

بیان کے مطابق فوج کی سینئیر قیادت پر سیاست کرنا اور آرمی چیف کے انتخاب کے عمل کو متنازع بنانا نہ تو ریاست پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ادارے کے۔ فوج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی پاسداری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز عمران خان نے فیصل آباد کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف اپنا فیورٹ آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں کیونکہ انھوں نے پیسا چوری کیا ہوا ہے، یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آگیا تو وہ ان سے پوچھے گا، اس ڈر سے یہ حکومت میں بیٹھے ہیں کہ اپنے فیورٹ آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔

سابق وزیراعطم نے کہا تھا کہ کیا آرمی چیف ان سے این او سی لے کر بنائیں گے، یہ لوگ سیکیورٹی رسک ہیں، یہ دو لوگ ملک کے غدار ہیں، کسی صورت ملک کی تقدیر ان کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے، اس ملک کا آرمی چیف میرٹ پر ہونا چاہیے، جو میرٹ پر ہو اس کو آرمی چیف بننا چاہیے، کسی کی پسند کا آرمی چیف نہیں ہونا چاہیے۔

آرمی چیف تعیناتی سے متعلق بیان کی وضاحت آ چکی، آئی ایس پی آر کا بیان غیر ضروری تھا: تحریک انصاف

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے عمران خان کے گذشتہ روز کے بیان پر ردعمل کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا ہے عمران خان کے فیصل آباد جلسے میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق دیے گئے بیان کی پہلے ہی وضاحت دی جا چکی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ اس بیان کا مقصد ادارے کی ساکھ اور اس کی اعلیٰ قیادت کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا نہیں تھا۔

تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ عمران خان کے بیان کی وضاحت متعدد ٹویٹس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں بھی دی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی قیدات یہ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ عمران خان آرمی چیف سے متعلق بیان صرف اور صرف بدعنوان پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ کے تناظر میں دیا گیا تھا، جو فوج سے سیاست سیاست کھیلتے ہیں۔

اپنے بیان کی حمایت میں انھوں نے میموگیٹ اور ڈان لیکس کا بھی حوالہ دیا۔ شیریں مزاری کے مطابق ایسے میں آئی ایس پی آر کا بیان انتہائی غیر ضروری تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ (آئی ایس پی آر کا) میڈیا پر بیان تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نے جو کہا اس کی وضاحت کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ اسے غلط سمجھا گیا ہے۔ اور ایسے وقت میں جب پی ڈی ایم جان بوجھ کر عمران خان کے بیان کو توڑ مروڑ کر انھیں ہدف بنا رہی ہے۔

فیصل آباد کے جلسے میں عمران خان نے کہیں بھی فوج یا اس کی قیادت پر تنقید نہیں کی ہے۔

یہ کہہ رہے ہیں کہ ادارے مل کر عمران خان کو نااہل کریں: فواد چوہدری

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چہودری نے حکمران اتحاد سے کہا کہ آپ عمران خان کو نااہل کریں تو پھر آپ اسلام آباد سے نکل کر دکھائیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ادارے مل کر عمران خان کو نااہل کریں۔ ان کے مطابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے اس سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

فواد چوہدری نے حکمران اتحاد کے بارے میں کہا کہ ان کی سیاسی حیثیت نہیں، یہ سازش کے ذریعے آئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی وجہ سے پاکستان سری لنکا نہیں بنا۔

فواد چوہدری کے مطابق یہ تو لندن میں بھی باہر نہیں نکل سکتے، ہم نے لوگوں کے آگے بندھ باندھا ہوا ہے، اس وقت لوگوں کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق سیاسی طور پر عمران خان کو ختم کر دیں اور پھر اگلے پچاس ساٹھ سال ان دو خاندانوں میں اقتدار گھومتا رہے۔

ان کے مطابق ان دونوں جماعتوں کا پاکستان سے کیا مفاد وابستہ ہے؟ ان کے اپنے فوج کے بارے میں کیا خیالات تھے۔ ان کے مطابق ڈان لیکس اور میموگیٹ کیا تھے؟

ان کے مطابق جب ممبئی کا واقعہ پیش آیا تو سب سے پہلے جس لیڈدر نے اجمل قصاب کے پاکستان ہونے کے بارے میں بیان دیا تھا وہ نواز شریف تھے، جسے عالمی عدالت انصاف میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

فواد چوہدری نے کہا جب سے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ کی کرسی سے اترے ہیں وہ لندن سے واپس پاکستان ہی نہیں آئے ہیں۔

عمران خان آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانا چاہتے ہیں: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان فوج کے ادارے کی سرپرستی کے خواہاں ہیں اور وہ اپنی کرپشن سے تحفظ چاہتے ہیں۔

انھوں نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’فوج سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہے، کرپشن سے تحفظ کے لیے نہیں۔‘

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ فوج کی قیادت اگر سیاست میں مداخلت کرتی ہے تو یہ ان کے حلف کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کا بیان شہدا کی توہین ہے۔ تھری سٹار، دو سٹار جنرل، برگیڈیئر اور ان کے بچے شہید ہوئے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان مسلسل ملک کی معیشت اور دفاع پر حملے کر رہے ہیں۔‘

’انھوں نے افواج پر تنقید کی۔ عمران خان کہتے ہیں انھیں سرپرستی چاہیے۔ انھوں نے اپنے دور میں تقرریوں کو سیاست کا موضوع بنایا۔ عمران خان جیسے لوگ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ ’کل انھوں نے فوج کی قیادت پر حملہ کیا، سپہ سالار سے متعلق شک پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ آرمی چیف کی تعیناتی میں تین ماہ ہیں، اسے موضوعِ بحث بنانا مناسب نہیں۔‘

’سیاسی جنگیں سیاسی میدان کے اندر نمٹانی چاہیے۔ عمران خان اس تعیناتی کو متنازع بنانا چاہتے ہیں، یہ دشمنی کی باتیں ہیں۔ یہ ملک کے مفاد نہیں نقصان کی باتیں ہیں۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C