14/October/2025

غزہ اسرائیل امن معاہدے پر تاریخی دستخط: 3 ہزار سال بعد امن کا دن آیا!، امریکی صدر ٹرمپ

👁️ 312 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ اسرائیل امن معاہدے پر تاریخی دستخط: 3 ہزار سال بعد امن کا دن آیا!، امریکی صدر ٹرمپ

غزہ اسرائیل امن معاہدے پر تاریخی دستخط: 3 ہزار سال بعد امن کا دن آیا!، امریکی صدر ٹرمپ

قاہرہ (نمائندہ ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں ایک تاریخی لمحہ رقم ہوا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں منعقدہ غزہ امن سربراہی اجلاس کے دوران غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کے سربراہان نے دستخط کیے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام کا قیام ہے۔

 

تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت دنیا کے متعدد اہم رہنما شریک ہوئے۔ دیگر نمایاں شخصیات میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز، اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی، اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز، کویت کے وزیراعظم احمد العبداللہ الصباح، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی شامل تھے۔

 

صدر ٹرمپ کا خطاب: “غزہ کے عوام کے لیے نیا اور خوبصورت دن طلوع ہوا ہے”۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ “آج غزہ کے عوام کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ برسوں کی تباہی اور خونریزی کے بعد آخرکار امن قائم ہو گیا ہے۔ یہ صرف جنگ کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی امید کا آغاز ہے۔”

 

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی مصر، قطر اور ترکیہ کے تعاون سے ممکن ہوئی، جنہوں نے ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 

ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا، “سب لوگ خوش ہیں۔ ہم نے پہلے بھی بڑے معاہدے کیے ہیں، مگر یہ تو جیسے راکٹ کی طرح اوپر گیا ہے۔”

 

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس لمحے تک پہنچنے میں "تین ہزار سال لگے"، اور اب مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی صبح طلوع ہو چکی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اب غزہ میں انسانی امداد پہنچ چکی ہے، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان سے لدے سیکڑوں ٹرک داخل ہو رہے ہیں، جبکہ یرغمالیوں کی واپسی کے بعد شہری اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ “ایک نیا اور خوبصورت دن شروع ہو رہا ہے اب تعمیرِ نو کا وقت ہے۔”

 

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

 

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ “آج غزہ کے عوام کے لیے تاریخی دن ہے۔ یہ دن اُن مسلسل کوششوں کا ثمر ہے جو صدر ٹرمپ کی قیادت میں ممکن ہوئیں۔”

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا تھا، “آج میں ایک بار پھر اُنہیں نوبیل انعام دینے کی درخواست کرتا ہوں کیونکہ وہ اس اعزاز کے حقیقی حقدار ہیں۔”

 

وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں بھی امن قائم کیا، جس سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔

 

عالمی برادری کی شرکت اور شرم الشیخ کا تاریخی اجلاس

 

غزہ امن کانفرنس کا بنیادی مقصد غزہ کی پٹی میں جنگ کا خاتمہ، علاقائی امن اور استحکام کے نئے دور کا آغاز تھا۔

 

اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں نے ایک ساتھ تصاویر بنوائیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

 

اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے غیر رسمی گفتگو میں کہا: "کیا ہمیں دستاویزات دے سکتے ہیں، پلیز؟"پھر ہنستے ہوئے کہا:"ہم معاہدے پر دستخط کریں گے اور پھر تقاریر کریں گے۔"

 

یہ دستاویزات بعد ازاں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو دی گئیں جنہوں نے ٹرمپ کے بعد دستخط کیے۔

 

صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات

 

اس سے قبل صدر ٹرمپ غزہ امن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مصر پہنچے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال ہوا۔

 

شرم الشیخ ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال مصری وزیرِ یوتھ و اسپورٹس ڈاکٹر اشرف صبحی، پاکستانی سفیر عامر شوکت اور اعلیٰ سفارتی عملے نے کیا۔

 

 امن کا پیغام

 

غزہ امن معاہدہ اس بات کا مظہر ہے کہ دنیا بھر کے رہنما اب تشدد کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر متفق ہیں۔

 

صدر ٹرمپ کے الفاظ میں،"ماضی میں کہا جاتا تھا کہ تیسری عالمی جنگ مشرقِ وسطیٰ سے شروع ہوگی، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔"

 

کئی تجزیہ کاروں کے مطابق، شرم الشیخ میں ہونے والا یہ معاہدہ عرب و مغربی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، اور اگر اس پر حقیقی عمل درآمد ہوا تو غزہ، اسرائیل اور پورے خطے میں ایک پائیدار امن ممکن ہو سکتا ہے۔

 

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ تنازع کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت ہوا جب حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 1200 افراد ہلاک اور تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

 

اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پٹی پر بھرپور فوجی کارروائیاں شروع کیں، جن میں فضائی بمباری، زمینی آپریشن اور محاصرے شامل تھے۔

 

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران فلسطینی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار تک پہنچ گئی تھی، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق، غزہ کے کئی علاقے مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے تھے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ یہ تباہ کن جنگ تقریباً دو سال جاری رہی، جس کے بعد بالآخر شرم الشیخ میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کے ذریعے اس کا اختتام ممکن ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C