31/May/2025

غزہ میں اسرائیلی بمباری: 60 ہلاک، 284 زخمی، جنگ بندی پر فریقین متفق

👁️ 172 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ میں اسرائیلی بمباری: 60 ہلاک، 284 زخمی، جنگ بندی پر فریقین متفق

غزہ میں اسرائیلی بمباری: 60 ہلاک، 284 زخمی، جنگ بندی پر فریقین متفق

غزہ + واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد ہلاک جبکہ 284 زخمی ہو گئے ہیں۔

حماس کے زیر انتظام وزارت کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں شمالی غزہ کی پٹی گورنریٹ میں واقع ہسپتالوں کی تعداد شامل نہیں ہے کیونکہ اس علاقے تک رسائی میں دشواری ہے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 54،381 ہوگئی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے جواب میں غزہ میں اپنی فوجی کارروائی کا شروع کی تھی جس میں تقریبا 1،200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کیلئے امریکہ کی تجویز پر دستخط کر دیے، وائٹ ہاؤس

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کے روز جب ایک نیوز کانفرنس کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولن لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی کی اس رپورٹ کی تصدیق کر سکتی ہیں کہ اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی کے نئے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

جس کے جواب میں کیرولن لیویٹ نے کہا کہ ’جی میں اس بات کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر نے حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی جس کی اسرائیل نے حمایت کی ہے۔ حماس کو بھیجنے سے قبل اس تجویز پراسرائیل نے دستخط کر دیے تھے۔‘

دوسری جانب اسرائیل کے ٹی وی چینل 12 نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی صدر نیتن یاہو نے یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ایک ملاقات میں کہا کہ ’ہم وٹکوف کے اس تازہ ترین منصوبے کو قبول کرنے پر اتفاق کرتے ہیں جو ہمیں آج رات بتایا گیا تھا تاہم حماس نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘

نیتن یاہو کے مطابق ’ہمیں یقین نہیں کہ حماس آخری یرغمالی کو رہا کرے گی اور ہم اس وقت تک غزہ کی پٹی نہیں چھوڑیں گے جب تک تمام یرغمالی ہمارے حوالے نہیں کر دیے جاتے۔‘

تاہم اس کے بعد اسرائیلی صدر کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چینل کے ایک رپورٹر نے اس کمرے میں ریکارڈنگ ڈیوائس سمگل کرنے کی کوشش کی جہاں یہ ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن اان کی جانب سے امریکی تجویز سے متفق ہونے کی تردید نہیں کی گئی۔

جنگ بندی کی تجویز پر حماس فلسطینی قیدیوں کے بدلے 10 زندہ اور 18 مردہ اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کیلئے تیار

فلسطینی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اس نے رواں ہفتے کے اوائل میں پیش کی جانے والی امریکی جنگ بندی کی تجویز پر اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی متفقہ رہائی کے بدلے دس زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور 18 مردہ یرغمالیوں کی لاشوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے، جو مجوزہ معاہدے میں متعین تعداد ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ تنظیم نے امریکی سفیر سٹیو وٹکوف کی جانب سے تجویز کردہ مسودے پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے جسے اسرائیل کی جاب سے منظوری حاصل ہو چکی ہے۔

ایک تفصیلی جواب میں حماس نے تحریک کی شرائط کا اعادہ کی جن میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیل کا مکمل انخلا اور انسانی امداد کی مسلسل ترسیل کی ضمانت شامل ہے۔

ان میں سے کوئی بھی اس وقت پیش کش میں شامل نہیں ہے، اور حماس کے جواب میں نہ تو واضح طور پر تجاویز کو مسترد کیا گیا ہے اور نہ ہی اس تجویز کو واضح طور پر قبول کیا گیا ہے۔

مبینہ جنگ بندی کی تجویز میں کیا ہے؟

حماس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے میں گروپ کے بنیادی مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا۔

منصوبے کی مکمل تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی ہیں اور معلومات ابھی غیر مصدقہ ہیں لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس میں یہ اہم نکات شامل ہیں:

1: لڑائی میں 60 دن کا وقفہ
2: پہلے ہفتے میں 28 اسرائیلی یرغمالیوں کو زندہ اور مردہ رہا کیا جانا اور مستقل جنگ بندی کے بعد مزید 30 کی رہائی عمل میں لائی جائے گی۔

3: 1236 فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور 180 ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی لاشوں کی حوالگی

4: اقوام متحدہ اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے غزہ میں انسانی امداد بھیجنا

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C