15/October/2025

غزہ میں حماس اور دغمش قبیلے کے درمیان خونریز جھڑپیں، 27 ہلاک

👁️ 351 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ میں حماس اور دغمش قبیلے کے درمیان خونریز جھڑپیں، 27 ہلاک

غزہ میں حماس اور دغمش قبیلے کے درمیان خونریز جھڑپیں، 27 ہلاک

غزہ (ڈیلی اردو) غزہ شہر میں حماس کی سکیورٹی فورسز اور دغمش قبیلے کے مسلح جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اختتام کے بعد سے ہونے والا سب سے پرتشدد تصادم قرار دی جا رہی ہیں۔

 

عینی شاہدین کے مطابق جنوبی غزہ شہر میں اردن کے زیر انتظام چلنے والے ہسپتال کے قریب حماس کے نقاب پوش جنگجوؤں اور عسکریت پسندوں کے درمیان گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

 

حماس کے زیر انتظام وزارتِ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے شہر کے اندر ایک مسلح ملیشیا کو گھیرے میں لے کر اس کے ارکان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، کارروائی کے دوران آٹھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

 

مقامی طبی ذرائع کے مطابق دغمش قبیلے کے 19 افراد اور حماس کے 8 جنگجو اس جھڑپ میں مارے گئے۔

 

رہائشیوں کے مطابق لڑائی تل الحوا کے علاقے میں اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے 300 سے زائد جنگجو ایک رہائشی عمارت پر حملہ آور ہوئے، جہاں دغمش قبیلے کے مسلح ارکان مورچہ زن تھے۔ شدید فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں خاندان گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو گئے، جن میں سے بہت سے پہلے ہی جنگ کے دوران کئی بار بے گھر ہو چکے تھے۔

 

ایک عینی شاہد نے کہا، ’’اس بار لوگ اسرائیلی حملوں سے نہیں بھاگ رہے تھے، وہ اپنے ہی لوگوں سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔‘‘

 

دغمش قبیلہ غزہ شہر کا ایک بااثر اور مسلح قبیلہ ہے، جو اپنی خودمختاری اور طاقت کے لیے مشہور ہے۔ اس قبیلے کے بعض ارکان ماضی میں حماس اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں سے منسلک رہے ہیں۔ دغمش قبیلہ پہلے بھی حماس کی حکومت کے ساتھ متعدد بار تصادم کر چکا ہے، خاص طور پر اثر و رسوخ اور کنٹرول کے معاملات پر۔

 

وزارتِ داخلہ کے مطابق فورسز ’’علاقے میں نظم و ضبط بحال کرنے کے لیے کارروائی‘‘ کر رہی ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی مسلح سرگرمی کو ’’سختی سے کچل دیا جائے گا۔‘‘

 

فریقین نے ایک دوسرے پر جھڑپوں کے آغاز کی ذمہ داری عائد کی ہے۔

 

دوسری جانب امریکی حمایت یافتہ امن معاہدے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے کی عالمی کوششوں کے باوجود منگل کے روز حماس کی سکیورٹی فورسز نے غزہ کے شہروں پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کرنے کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

 

اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کی غزہ واپسی کے موقع پر ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے حماس کی عزالدین القسام بریگیڈز نے سلامتی کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ شمالی غزہ میں نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے دوبارہ گشت شروع کر دیا ہے۔

 

ادھر حماس کے ایک خصوصی یونٹ نے مسلح قبائلی گروہوں اور مبینہ اسرائیل نواز گینگز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ مقامی شہری یحییٰ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’شدید جھڑپیں جاری ہیں، حماس کا مقصد مبینہ مخبروں کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘

 

شرم الشیخ میں ہونے والے حالیہ امن اجلاس میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکی نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں غزہ میں حماس کے مستقبل کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 

تاہم زمینی صورتحال ان کوششوں کے برعکس ہے، جہاں حماس نہ صرف دوبارہ سکیورٹی کنٹرول سنبھال رہی ہے بلکہ داخلی مخالفین کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہے۔

 

یورپی یونین نے غزہ میں بڑھتی ہوئی پرتشدد جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس کے ترجمان نے منگل کے روز بیان میں کہا، ’’ہم ان اطلاعات پر فکر مند ہیں جن میں غزہ پٹی میں حماس اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔‘‘

 

کالاس کے ترجمان نے کہا، ’’ہم تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کی اپیل کرتے ہیں جو جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتے ہوں۔‘‘

 

یورپی یونین نے ایک بار پھر کہا کہ غزہ کے مستقبل میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور اسے مکمل طور پر غیر مسلح ہونا چاہیے۔

 

غزہ میں امن منصوبے پر دستخط کے باوجود سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ یورپی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر طاقت کا خلا یا خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی تو حالات لیبیا یا صومالیہ جیسے ہو سکتے ہیں، جہاں مسلح گروہوں نے ریاستی نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C