16/May/2025

غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، امریکہ کو فلسطینیوں کی مدد کرنیکی ضرورت ہے، صدر ٹرمپ

👁️ 110 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، امریکہ کو فلسطینیوں کی مدد کرنیکی ضرورت ہے، صدر ٹرمپ

غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، امریکہ کو فلسطینیوں کی مدد کرنیکی ضرورت ہے، صدر ٹرمپ

واشنگٹن (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ سے وطن واپسی کے دوران اپنی پرواز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ کو فلسطینیوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ یہ بات بھی درست ہے کہ غزہ میں بہت سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کو وسعت دینے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں غزہ میں ’اگلے مہینے میں بہت ساری اچھی چیزیں ہونے جا رہی ہیں،‘ لیکن انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر انتھونی زرچر نے حماس کے اقتدار چھوڑنے کے ممکنہ منصوبے کے بارے میں پوچھا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ہر چیز کو دیکھنے جا رہے ہیں، لیکن ہم یرغمالیوں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔‘

اسرائیلی فوج کی جانب سے شمالی غزہ کے شہریوں کیلئے انخلا کے احکامات جاری

اسرائیلی طیاروں نے جمعہ کی علی الصبح شمالی غزہ کے متعدد علاقوں بشمول بیت لاہیہ، جبالیہ پناہ گزین کیمپ، شیخ زید ہاؤسنگ پروجیکٹ اور تل الزتر کے مضافات میں انتباہی پمفلٹ گرائے۔

پمفلٹس میں تمام رہائشیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ فوجی آپریشن غزہ کے سب سے گنجان آباد علاقوں میں سے ایک میں پھیل سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت میں اُٹھایا گیا ہے کہ جب آئی ڈی ایف نے بیت لاہیا پر زمینی اور فضائی حملے تیز کر دیے ہیں اور رات بھر بھاری شدید گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کی تازہ ترین کارروائیوں کے دوران اب تک کی اطلارات کے مطابق 100 فلسطینی شہری ہلاک ہو چُکے ہیں۔

انخلا کے احکامات نے ان خاندانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثر کے پاس کوئی ایسا مقام نہیں ہے کہ جسے محفوظ سمجھا جا سکے۔

اسرائیلی فوج کا غزہ میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’افواج خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ’فوجی ’دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور اُن کے اہم ٹھکانوں کو تباہ‘ کر رہے ہیں اور ’دہشت گردوں کا خاتمہ‘ کر رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فضائی حملوں میں 150 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

تازہ ترین معلومات میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے حملے، ٹینک شکن میزائل چوکیوں، دہشت گردوں کے سیلوں، فوجی ڈھانچوں اور آپریشنل مراکز پر کیے گئے ہیں۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’شمالی غزہ میں زمینی فوج نے ’متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے جو اسرائیل کے خلاف متعدد شرانگیز کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔‘

جنوبی غزہ میں بھی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے حماس کے زیر استعمال ’دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے‘ اور ’متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے جو علاقے میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘

غزہ میں اسرائیلی فوج کے زمینی، فضائی اور سمندری حملے، مزید 50 فلسطینی ہلاک

غزہ میں اسرائیلی فوج کے بڑے پیمانے پر زمینی، فضائی اور سمندری حملوں میں 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب شروع ہونے والے فضائی حملوں میں اب تک 50 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں تاہم اس سے قبل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیلی فوج کے حملوں میں 120 سے زائد افراد کی ہلاکت کے تصدیق کی گئی تھی۔

غزہ کے شمالی علاقوں میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جمعے کی علی الصبح بڑے پیمانے پر زمینی، فضائی اور سمندری حملے کیے ہیں تاہم اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مقامی رہائشیوں کے مطابق حملوں کا آغاز سرحدی علاقوں کے قریب موجود اسرائیلی علاقوں سے توپ خانے کی شدید گولہ باری کے ساتھ ہوا۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف کا کہنا ہے کہ مارچ کے اوائل میں اسرائیل کی جانب سے اپنی جارحیت دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے شمالی غزہ پر یہ سب سے بڑا زمینی حملہ ہے۔

دوسری جانب غزہ میں خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ امدادی اداروں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے رواں سال مارچ کے وسط سے علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل روک رکھی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ’ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں سنگین ہوتی انسانی صورتحال پر پریشان ہے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C