18/May/2024

لاہور میں پولیس افسران پر حملہ کرنیوالے دہشت گردوں کا تعلق جماعت الاحرار سے نکلا

👁️ 34 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لاہور میں پولیس افسران پر حملہ کرنیوالے دہشت گردوں کا تعلق جماعت الاحرار سے نکلا

لاہور میں پولیس افسران پر حملہ کرنیوالے دہشت گردوں کا تعلق جماعت الاحرار سے نکلا

اسلام آباد (ش ح ط) صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس افسران و اہلکاروں پر حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، چاروں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جماعت الاحرار سے تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث مرکزی ملزم فیضان بٹ کے مارے گئے ساتھیوں کی شناخت ہوگئی، ہلاک ہونے والوں میں فیضان، لقمان، طاہر اور ہارون شامل ہیں۔

سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزم فیضان بٹ کو دوران تفتیش اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈ کی برآمدگی کے لیے کرول جنگل لے جایا گیا تھا جہاں برآمدگی کے دوران فیضان کے پانچ ساتھیوں نے حملہ کردیا تھا، مقابلے میں فیضان سمیت چار دہشت گرد ہلاک ہوئے، لقمان، طاہر اور ہارون کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر، ہارون اور لقمان اپنے ساتھی فیضان کو چھڑا کر افغانستان لے کر جانا چاہتے تھے، فیضان سمیت چار دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے، موقع سے دو کلاشنکوف ایک پستول قبضہ میں لے لیا گیا، ٹارگٹ کلر فیضان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ لاہور کے مختلف علاقوں میں پولیس افسران و اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں لاہور پولیس نے 2 مئی کو فیضان بٹ کو الفلاح ٹاؤن سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

پولیس نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ شوٹر فیضان بٹ افغانستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطے میں تھا۔

ملزم نے مزید دوران تفتیش انکشاف کیا کہ دو اعلیٰ پولیس افسران کو بھی ٹارگٹ کرنے کی پلاننگ کر رہا تھا مزید 14 مبینہ ملزم رابطے میں تھے۔ تفتیشی ٹیم نے یہ انکشاف کیا کہ ملزم بہاولپور میں مارے جانے والے سیف اللہ خراسانی اور اسد اللہ خراسانی سے بھی رابطے میں تھا۔

پنجاب پولیس کے مطابق ملزم فیضان کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے سوشل میڈیا نیٹ ورک کا حصہ تھا جبکہ فیضان نے مصری شاہ میں سب انسپکٹر محمد ارشد کو ہلاک کرنے سے پہلے اس کی تصویر لی تھی اس کے بعد ملزم فیضان نے سب انسپکٹر کی تصویر سوشل میڈیا گروپ میں بھیج کر ہلاکت کی اجازت مانگی تھی۔ ملزم فیضان نے سوشل میڈیا گروپ پر پیغام بھجوایا تھا کہ ٹارگٹ 2 پھولوں والا ہے جب سوشل میڈیا گروپ سے ہلاک کرنے کی اجازت ملی تو فیضان نے سب انسپکٹر کو ہلاک کر دیا۔

اسی طرح ٹیکسالی میں کانسٹیبل غلام رسول کو ہلاک کرنے سے قبل ملزم فیضان نے اس کی بھی تصویر سوشل میڈیا گروپ میں بھیج کر ہلاکت کی اجازت کی طلب کی تھی۔ پولیس اہلکاروں کے قتل کے حوالے سے ملزم فیضان بٹ سے مزید تفتیش جاری ہے۔

خیال رہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کرکے مارنے والے ملزم فیضان بٹ نے گزشتہ روز اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اسے افغانستان سے 6 پولیس اہلکاروں کے قتل کا ٹاسک ملا تھا اور ملزم فیضان نے اب تک تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا اعتراف کر لیا تھا جبکہ دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

ملزم فیضان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے یہ تمام قتل پولیس سے نفرت کے باعث کئے ہیں کیونکہ اسے پولیس نے ایک غلط مقدمے میں ملوث کر دیا تھا جس کا اسے بہت غصہ تھا۔ ملزم کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل میں اس کی ملاقات کالعدم لشکر جھنگوی کے عبدالرؤف گجر سے ہوئی تھی۔ رؤف گجر نے 6 لاکھ روپے رشوت دیکر اس کی ضمانت کرائی تھی۔

ملزم کے مطابق اسے رہا کروا کر افغانستان کے علاقے خراسان بھجوا دیاگیا تھا جہاں اسے 6 پولیس اہلکاروں کے ہلاکت کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ ملزم کے مطابق افغانستان میں اس کی ملاقات عاصم نامی شخص سے ہوئی تھی جس نے اسے پولیس اہلکاروں کے قتل ٹاسک دیا اور ٹاسک پورا کرنے پر افغانستان میں نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا۔

ملزم فیضان کے مطابق موٹر سائیکل اس سے شادباغ لاہور سے چھینی تھی اور اس کا نمبر تبدیل کرکے پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا تھا جبکہ اسلحہ ڈیرہ اسماعیل خان سے حاصل کیا تھا۔

پولیس کا یہ بھی بتانا تھا کہ ملزم کو افغانستان سے آپریٹ کیا جارہا تھا اور ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

فیضان بٹ دو مرتبہ افغانستان بھی جا چکا ہے۔ ملزم موٹرسائیکل پر اپنا ہدف تلاش کرتا تھا، ملزم کا ہدف بغیر اسلحہ باوردی پولیس اہلکار ہوتے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C