لکسمبرگ میں سیاسی پناہ کی مشترکہ پالیسی پر یورپی یونین کا اہم اجلاس
👁️ 149 بار دیکھا گیا
لکسمبرگ میں سیاسی پناہ کی مشترکہ پالیسی پر یورپی یونین کا اہم اجلاس
لکسمبرگ سٹی (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) بروز جمعرات لکسمبرگ میں یورپی یونین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس کا مقصد سیاسی پناہ کی مشترکہ پالیسی پر طویل عرصے سے جاری تنازعہ کا حل تلاش کرنا تھا۔
یورپی بلاک کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کی بات چیت میں یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر سیاسی پناہ کے نئے تیز رفتار طریقہ کار کے بارے میں صلاح و مشورے کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
“We can only deal with the migration situation together, as an entire EU, not as a nation state. I am fighting for a ???????? of open borders – and also to keep families with small children out of the border procedure”- @BMI_Bund Minister @NancyFaeser at #JHA Council in Luxembourg. pic.twitter.com/ZLkuKb7FIF
— Germany in the EU (@germanyintheeu) June 8, 2023
جرمنی کی وفاقی وزیر داخلہ نینسی فیزر پہلے ہی اس کی منظوری کا عندیہ دے چکی ہیں۔ تاہم جرمن حکومت میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں سمیت دیگر ناقدین بھی سیاسی پناہ سے متعلق پالیسیوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے خوفزدہ ہیں۔ وہ وفاقی حکومت سے یورپی یونین کے اس منصوبے کو مسترد کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
The #JHA Council in #Luxembourg addressed the reform of the ????????migration system. FM #Asselborn stressed that the reforms must strike a balance between solidarity and responsibility: “The #EU must remain an area that honours its commitments under int’ law in terms of protection." pic.twitter.com/JakX2zAL56
— MFA Luxembourg ???????? (@MFA_Lu) June 8, 2023
سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک مشترکہ پالیسی سازی ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جو چند سالوں سے یورپی یونین کے رکن مممالک کے لیے بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
یعنی ” یورپ میں داخل ہونے والےپناہ کے متلاشی افراد کی ذمہ داری‘‘ کو کس طرح تمام ممبر ممالک پر برابر تقسیم کیا جائے۔
خاص طور سے نزاع کا باعث یہ موضوع بنا ہوا ہے کہ اجازت کے بغیر کسی خاص رکن ممبر ملک میں آنے والے مہاجرین کی ذمہ داری کن کن ممالک کو قبول کرنا چاہیے اور کیا دوسرے ممبران کو ان سے نمٹنے میں مدد کرنے کا پابند ہونا چاہے؟
لکسمبرگ میں ہونے والے اس اجلاس میں یورپی یونین کے مائیگریشنامور کے اعلیٰ اہلکار، ممبر ممالک کے داخلہ امور کی کمشنر یلوا ژوہانسن نے بھی شرکت کی۔
ژوہانسن کا کہنا تھا، ”یہ ایک غیر معمولی اہم دن ہے۔ ایک ایسے مسئلے کے حل کے لیے جو یورپ کے لیے ”ایک میراتھن‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا،” ہمارے پاس شاید 100 میٹر فاصلہ باقی ہے۔ یعنی ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے بہت قریب ہیں۔‘‘
ژوہانسن کے بقول، ”آج ایک معاہدہ کرنا ہے اور میں یورپی یونین کے رکن ممالک سے امید کرتی ہوں کہ وہ ان چند میٹر کے فاصلے کو طے کرتے ہوئے ایک معاہدے پر پہنچ کر اس پر حتمی طور پر اتفاق کر لیں گے۔‘‘
کمشنر یلوا ژوہانسن نے مزید کہا، ”اگر ہم متحد نہ ہوسکے تو ہم سب ہی شکست خوردہ ہوں گے۔‘‘
یورپ کے موجودہ قوانین کے تحت تارکین وطن سیاسی پناہ کے لیے درخواست ورپی یونین کے اسی رکن ملک میں دے سکتے ہیں، جہاں وہ پہلی مرتبہ پہنچتے ہیں۔ انہی ممالک پر لازم ہے کہ وہ تارکین وطن کا انٹرویو کریں اور ان کی اسکریننگ کریں اور ان لوگوں کی درخواستوں پر کارروائی کریں۔
لیکن یونان، اٹلی اور مالٹا اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ پناہ کے متلاشی یا مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے اور اسے سنبھالنے کا بوجھ بھی بہت مشکل اور بھاری ہے۔ اس قانون کے بعد ایک اور قانون آیا جو کوٹہ سسٹم کو ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔ اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اور آخر کار اسے ترک کر دیا گیا۔
یورپی یونین کے ممالک اب اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ وہ جو مدد فراہم کرتے ہیں وہ لازمی ہونی چاہیے لیکن اس کی اشکال مختلف ہو سکتی ہیں، مثلاً مائیگریشن شیئرنگ اسکیم کی بجائے مالی اور دیگر مدد کی شکل میں۔
یورپی یونین کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے۔ اس ملک نے ایک نیا نظام تجویز کیا ہے، جس کے تحت وہ ممالک جو تارکین وطن کو اپنے ملک کے اندر نہیں لینا چاہتے وہ امدادی رقم کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔
فی مہاجر تقریباً 20,000 یورو کی مد مذکورہ امدادی اسکیم کے اعداد و شمار کے طور پر میٹنگ کے رن اپ میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ تاہم واضح نہیں ہے کہ آیا اسے قبول کیا جائے گا؟
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 293 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 379 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 722 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 632 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 244 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 327 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8965 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4817 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3576 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3497 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C