لیبیا کے قریب سمندر سے 11 تارکین وطن کی لاشیں برآمد
👁️ 171 بار دیکھا گیا
لیبیا کے قریب سمندر سے 11 تارکین وطن کی لاشیں برآمد
طرابلس (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے پی) ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق اس کے ایک ریسکیو بحری جہاز نے سمندر میں نو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے ایک سرچ آپریشن کے بعد یہ لاشیں برآمد کیں۔ 2023ء میں بحیرہ روم پار کرنے کی کوششوں میں تین ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔
ایک فرانسیسی امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ اس نےلیبیا کے ساحل کے قریب سمندری پانیوں سے 11 تارکین وطن کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ان لاشوں کو اٹلی کے جزیرے لامپے ڈوسا کے قریب اطالوی کوسٹ گارڈز کے ایک بحری جہاز پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بحیرہ روم میں یہ وہی اطالوی جزیرہ ہے، جس تک یورپی یونین میں داخلے کی خاطر ہزاروں انسان ہر سال شمالی افریقہ سے سفر شروع کر کے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا کہ اس کے جیو بیرنٹس نامی ریسکیو جہاز نے نو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد یہ انسانی لاشیں کھلے سمندر سے برآمد کیں۔ یہ کارروائی انسانی حقوق کی جرمن تنظیم سی واچ کی طرف سے ایک الرٹ کیے جانے کے بعد کی گئی۔ سی واچ خود بھی سمندر میں تارکین وطن کو بچانے کے لیے اپنی پہچان رکھتی ہے۔
اس جرمن تنظیم کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ تارکین وطن کس بحری جہاز یا کشتی کے حادثے کا شکار ہوئے تھے۔ اس تنظیم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس نے یہ لاشیں نکالنے کے لیے لیبیا کے کوسٹ گارڈز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ کل ہفتے کے روز اس مشن کے دوران ہی سی واچ کے امدادی کارکنوں نے سمندر میں ایک اور لاش بھی دریافت کی۔
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ”ہم اس سانحے کی وجہ کا تعین نہیں کر سکتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لوگ محفوظ مقامات تک پہنچنے کی مایوس کن کوششوں کے دوران خطرناک راستے اختیار کرتے رہیں گے اور یورپ کو ان کے لیے محفوظ اور قانونی راستے تلاش کرنا ہوں گے۔‘‘
اس تنظیم کے امدادی بحری جہاز کو حکم دیا گیا کہ وہ بحیرہ روم سے امدادی کارروائیوں کے دوران بچائے گئے اور جہاز پر موجود 165 تارکین وطن کو شمالی اٹلی میں واقع جینوا کی بندرگاہ لے جائے۔ اس گروپ نے شکایت کی ہے کہ اس فیصلے سے تارکین وطن کی امداد میں نمایاں تاخیر ہو گی۔ شمالی افریقی ممالک سے نکلنے والے ہزاروں تارکین وطن لیبیا کو یورپ کی طرف روانگی کے مقام کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بحیرہ روم کے دوسری جانب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان میں سے اکثریت بحیرہ روم پار کرنے کا یہ خطرناک سفر جنگوں اور غربت سے بچنے کے لیے کرتی ہے۔ وسطی بحیرہ روم کا راستہ دنیا کی سب سے خطرناک سمندری کراسنگ ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت آئی او ایم کے مطابق 2023ء میں اس راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش اور پرخطر سفر کے دوران 3,000 سے زیادہ انسان بحیرہ روم میں لاپتہ ہو گئے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کے خاتمے پر اصرار، ٹرمپ سے متعدد بار گفتگو کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 38 بار دیکھا گیا
عراق: کرکوک میں داعش کے حملوں میں اضافہ، سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کردیا
20/October/2026 👁️ 39 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان
20/October/2026 👁️ 34 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ایم کیو 9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
نوشکی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی، 5 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 3 زخمی
20/October/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
بنوں کے علاقے زروم میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی، 5 ہلاک، 7 زخمی
20/October/2026 👁️ 41 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15624 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11919 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9273 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7532 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5486 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C