ماسکو فارمیٹ اجلاس میں بگرام ایئربیس پر امریکی کنٹرول کی کوشش مسترد
👁️ 235 بار دیکھا گیا
ماسکو فارمیٹ اجلاس میں بگرام ایئربیس پر امریکی کنٹرول کی کوشش مسترد
ماسکو (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں ) پاکستان، چین، روس، ایران اور بھارت سمیت دس ممالک نے افغانستان میں بگرام ایئر بیس پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔
روسی دارالحکومت میں منگل کے روز منعقدہ ساتویں ماسکو فارمیٹ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں افغانستان میں اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل بگرام ایئر بیس کا کنٹرول حاصل کرنے کی کسی بھی طرح کی کوششوں کی مخالفت کی گئی ہے۔
اجلاس میں افغانستان، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں افغانستان کے وفد نے پہلی بار بطور رکن شرکت کی، جس کی قیادت وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی۔
ماسکو فارمیٹ مشاورت برائے افغانستان کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں امریکہ کا نام لیے بغیر افغانستان یا اس کے پڑوسی ممالک میں کسی بھی ملک کی جانب سے اپنی فوجی تنصیبات قائم کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا، کیونکہ یہ خطے میں امن اور استحکام کے مفاد میں نہیں۔‘‘
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے افغانستان کے سب سے بڑے فضائی اڈے یعنی بگرام ایئر بیس کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
طالبان حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی غیر ملکی طاقت کو اپنی سرزمین پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دے گی۔
اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی سفیر محمد صادق نے کی۔ ایکس پر جاری ایک بیان میں محمد صادق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک پرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا، ''میں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے تمام دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ علاقائی کوششیں ناگزیر ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''میں نے سیاسی و معاشی تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف اور منشیات کے انسداد میں علاقائی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔‘‘
محمد صادق نے بتایا، ''اجلاس میں ان چیلنجز سے نمٹنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسلسل مکالمہ، تعاون اور مربوط اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔‘‘
روس کا طالبان حکومت کو رواں سال کے اوائل میں تسلیم کرنے کے بعد افغانستان کے ساتھ یہ پہلا باضابطہ اجلاس تھا۔ اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مغربی پابندیوں کی مذمت کی اور افغانستان کی جنگ کے بعد بحالی کے لیے عالمی حمایت کی اپیل کی۔
لاوروف نے طالبان کی تعریف کی کہ وہ خطے میں موجود داعش کے دھڑے کے خلاف لڑ رہے ہیں اور منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مغرب کو اس کی "تصادم کی پالیسی" پر تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں افغان ریاستی اثاثوں کو منجمد رکھنا اور اس کے بینکاری نظام پر پابندیاں شامل ہیں۔
لاوروف نے مغربی ممالک سے ضبط شدہ افغان اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، ''ہم مغربی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی پالیسی درست کریں، ضبط کیے گئے افغان اثاثے واپس کریں اور
افغانستان کی تعمیرِ نو کی ذمہ داری قبول کریں۔‘‘
روسی وزیر خارجہ نے افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک میں غیر ملکی فوجی اڈے قائم کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔
انہوں نے کہا، ''تاریخ نے ہمیں غیر ملکی فوجی مداخلت کے تباہ کن نتائج دکھائے ہیں۔ ہم یہ غلطیاں دوبارہ دہرانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘
مذاکرات کے دوران روس کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ماسکو کا افغانستان میں فوجی اڈے قائم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اجلاس میں شریک ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں افغانستان اور خطے کے ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری کے تعاون اور ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ صحت، غربت میں کمی، زراعت اور قدرتی آفات سے بچاؤ جیسے شعبوں میں مسلسل پیش رفت کے ذریعے افغانستان کو جلد از جلد آزاد اور پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے افغان عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی کو مزید تیز کرے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اس امداد کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے اجلاس میں افغانستان کو رکن کے طور پر مدعو کرنے پر روس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا،''خوش قسمتی سے افغانستان اور خطے کے درمیان تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور استحکام کی طرف گامزن ہیں۔ یہ امر اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی برادری میں افغانستان کے بارے میں فہم، اعتماد اور خیر خواہی میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘
متقی نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے قیام کے وقت افغانستان کو جن سکیورٹی چیلنجز کا سامنا تھا، جنہوں نے افغانستان کو خطے اور دنیا سے الگ تھلگ کر دیا تھا، یہ چیلنجز بڑی حد تک قابو میں آچکے ہیں۔ افغانستان اب خطرے کا نہیں بلکہ خطے کے استحکام اور معاشی ترقی کا ضامن اور شریک کار بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی ایسا گروہ موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہا ہو۔
متقی نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا، ''ہم ان ممالک کے حکام سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے داخلی مسائل کی ذمہ داری خود قبول کریں۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 114 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4532 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2437 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C