17/June/2026

ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

👁️ 80 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

ماسکو میں روسی آئل ریفائنری کو یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

ماسکو (ڈیلی اردو) روسی دارالحکومت ماسکو میں ایک آئل ریفائنری کو یوکرین کی طرف سے منگل 16 جون کو کیے گئے ایک ڈرون حملے کے بعد اپنی پیداوار روکنا پڑ گئی۔ اس حملے کے بعد اس ریفائنری کے کچھ حصوں کو آگ لگ گئی تھی۔

 

ماسکو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق روس میں صنعتی شعبے کے دو معتبر ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر بتایا کہ اس ڈرون حملے سے، جس کی روس کے خلاف جنگ میں ذمے داری یوکرین نے قبول کر لی ہے، اس ریفائنری کے ایک پرائمری ریفائننگ یونٹ CDU-6 کو نقصان پہنچا، جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔

 

یہ آئل ریفائنری اپنی معمول کی صلاحیت کے مطابق تقریباﹰ 21,400 میٹرک ٹن خام تیل روزانہ صاف کرتی تھی۔

 

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ یہ ریفائنری اپنے دوسرے پرائمری یونٹ کے ذریعے اپنی پیدوار جلد ہی دوبارہ شروع کر دے گی اور اس میں یومیہ بنیادوں پر 18,800 میٹرک ٹن تک خام تیل صاف کیا جا سکے گا۔

 

قبل ازیں ماسکو میں ایمرجنسی سروسز نے منگل کی صبح بتایا تھا کہ اس ریفائنری پر ڈرون حمملے کے نتیجے میں چند حصوں میں آگ لگ گئی تھی، تاہم ایمرجنسی سروسز کے مطابق اس وجہ سے اس بہت بڑی ریفائنری کی پیداواری صلاحیت متاثر نہیں ہوئی تھی۔

 

ماسکو کے میئر سیرگئی سوبیانن نے بھی منگل کی سہ پہر اپنے ایک بیان میں تصدیق کر دی کہ ڈرون حملے سے ریفائنری کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے اس حملے سے ہونے والے نقصانات کی مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

 

متاثرہ آئل ریفائنری روسی دارالحکومت ماسکو کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور یہ ماسکو کو صاف تیل کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

 

اس آئل ریفائنری کا مالک ریاستی انتظام میں کام کرنے والا روسی ادارہ گیس پروم نیفٹ ہے، جس نے اس بارے میں کوئی بھی ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C