17/January/2026

مشرقِ وسطیٰ میں ہائی الرٹ، ایران پر امریکی کارروائی کا امکان

👁️ 164 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مشرقِ وسطیٰ میں ہائی الرٹ، ایران پر امریکی کارروائی کا امکان

مشرقِ وسطیٰ میں ہائی الرٹ، ایران پر امریکی کارروائی کا امکان

 نیو یارک (ڈیلی اردو/ے پی/اے ایف پی/روئٹرز) مشرقِ وسطیٰ کے کئی اہم ممالک نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں عسکری کارروائی سے اجتناب برتے۔

 

 ایران میں دو ہفتوں سے جاری ملکی تاریخ کے بدترین احتجاج  اور جواب میں سخت حکومتی کریک ڈاؤن کے سبب خطے میں عدم استحکام کی تشویش ناک صورتحال کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ کے کئی اہم ممالک نےامریکی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی  عسکری کارروائی کرنے سے گریز کرے۔ ان ممالک میں خاص طور  مصر، عمان، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں۔ ان ممالک کو خدشہ ہے کہ کسی بھی امریکی حملے سے دنیا کی معیشت اور خطے کا پہلے سے کشیدہ ماحول مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایرانی عوام کے لیے بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا، مگر بعد میں ان کے بیانات میں نرمی دکھائی دی، جس سے عالمی منڈیوں میں بھی ردِعمل سامنے آیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے تاہم واضح کیا ہے کہ ’’تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔‘‘

 

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے مائیک والٹز نے بھی کہا کہ ایران میں جاری تشدد کو روکنے کے لیے فوجی اقدام کو خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔ اس دوران ایران میں انٹرنیٹ بندش اور مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد مظاہروں کی شدت بہ ظاہر کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی ایلچی مائیک والٹز نے ایران کے مظاہروں پر بات کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ مین آف ایکشن ہیں، وہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ 

 

جب کہ کئی دنوں سے دھمکیاں دینے کے بعد ٹرمپ بذات خود یہ اشارے بھیجتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔

 

اس نے سوشل میڈیا پر ایک ایرانی دکاندار، 26 سالہ عرفان سلطانی کی سزائے موت کی معطلی کے بارے میں فوکس نیوز کی سرخی کو اجاگر کیا۔

 

عرب ممالک نے ایران کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ مظاہرین پر تشدد فوراً روکا جائے، ورنہ کسی بھی جوابی کارروائی کا نتیجہ ایران کے لیے سنگین ہو سکتا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر ایک ایرانی دکاندار، 26 سالہ عرفان سلطانی کی سزائے موت کی معطلی کے بارے میں فوکس نیوز کی نیوز پر ٹرمپ نے مثبت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’یہ اچھی خبر ہے۔ امید ہے کہ یہ جاری رہے گا‘‘ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں دکاندار کی پھانسی میں مبینہ توقف کے بارے میں کہا۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے زور دے کر کہا کہ ایران نے طے شدہ 800 پھانسی کی سزاؤں کو روک دیا ہے۔ 

 

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جان بوجھ کر حیرت کے عنصر کو برقرار رکھنے کے اپنے ارادوں کے بارے میں ابہام ظاہر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ 

 

گزشتہ جون میں، جب ٹرمپ یہ سوچ رہے تھے کہ آیا ایران پر حملہ کیا جائے یا نہیں، تو وائٹ ہاؤس کی  پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو ایک پیغام پڑھ کر سنایا۔ تھا جو ان کے بقول براہِ راست صدر ٹرمپ کی طرف سے تھا اور اس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اگلے دو ہفتوں میں فیصلہ کریں گے کہ ایران  پر حملہ کرنا ہے یا نہیں۔ تاہم دو دن سے بھی کم وقت بعد امریکہ کے B-2 بمبار طیاروں نے ایران کے اہم جوہری مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

 

یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کے ریسرچ ڈائریکٹر جیریمی شاپیرو نے کہا کہ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودہ پوزیشن کے بارے میں خدشات کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہو۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C