01/October/2026

معروف پاکستانی وکیل اور شیعہ ہزارہ برادری کی رہنما جلیلہ حیدر کو رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نواز دیاگیا

👁️ 124 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
معروف پاکستانی وکیل اور شیعہ ہزارہ برادری کی رہنما جلیلہ حیدر کو رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نواز دیاگیا

معروف پاکستانی وکیل اور شیعہ ہزارہ برادری کی رہنما جلیلہ حیدر کو رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نواز دیاگیا

اسٹاک ہوم (ڈیلی اردو)  اسٹاک ہوم میں قائم رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن نے 2026 کے رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ کے لیے پاکستان کی انسانی حقوق کی وکیل جلیلہ حیدر سمیت چار خواتین اور خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیموں کا انتخاب کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق اس سال کے اعزازات ان افراد اور تنظیموں کو دیے گئے ہیں جو آمرانہ طرز حکمرانی، پدرشاہی جبر، خواتین کے خلاف امتیاز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں طاقت کے ارتکاز سے پیدا ہونے والے نقصانات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔


اس سال پاکستان کی جلیلہ حیدر، جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں سرگرم رورل ویمنز اسمبلی، جارجیا کی جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن اور امریکا سے تعلق رکھنے والی مصنوعی ذہانت کی محقق ٹمنیٹ گیبرو کو رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔


یہ ایوارڈ 1980 میں سویڈش نژاد جرمن سماجی کارکن اور مخیر شخصیت جیکب فان اُکسکُل کی کوششوں سے شروع ہوا تھا۔ اسے عام طور پر ’’متبادل نوبیل انعام‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ اعزاز گزشتہ 45 برس سے ایک زیادہ منصفانہ، پُرامن اور پائیدار دنیا کے لیے کام کرنے والے افراد اور تنظیموں کو تسلیم کرتا آ رہا ہے۔
جلیلہ حیدر کو انسانی حقوق کے لیے جدوجہد پر اعزاز
پاکستان کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن جلیلہ حیدر کو اپنی برادری کی پہلی خاتون وکیل کی حیثیت سے نسلی، ریاستی اور پدرشاہانہ جبر کے خلاف جدوجہد اور پاکستان کے کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔
رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر نے قانونی معاونت کو عوامی احتجاج اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کی کوششوں کے ساتھ جوڑا، جس کے ذریعے انہوں نے نسلی، مذہبی اور صنفی اقلیتوں، پناہ گزینوں اور دیگر کمزور طبقات سمیت ہزاروں افراد کو انصاف تک رسائی میں مدد فراہم کی۔


فاؤنڈیشن کے مطابق جلیلہ حیدر کی جدوجہد اس اصول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے کہ ’’کوئی بھی انسان غیر قانونی نہیں‘‘۔ فاؤنڈیشن نے ان کی خدمات کو پاکستان میں پسماندہ اور ظلم کا سامنا کرنے والی برادریوں کے لیے قانونی اور سماجی جدوجہد کا اہم امتزاج قرار دیا ہے۔
جلیلہ حیدر نے 2018 میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف سات روزہ بھوک ہڑتال کی قیادت بھی کی تھی۔ رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق اس احتجاج کے بعد اس وقت کے آرمی چیف نے ہزارہ خواتین کے نمائندوں سے براہِ راست مذاکرات کیے تھے۔


جلیلہ حیدر اس سے قبل بھی کئی بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ وہ 2019 میں بی بی سی کی ’’100 بااثر خواتین‘‘ کی فہرست میں شامل ہوئیں، جبکہ مارچ 2020 میں امریکی محکمہ خارجہ نے انہیں انٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈ دیا۔ 2023 میں انہیں دی ہیگ میں گلوبل جسٹیشیا ایوارڈ بھی دیا گیا۔


جنوبی افریقہ کی خواتین کسانوں کی تحریک


رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ رورل ویمنز اسمبلی کو بھی دیا گیا ہے، جو جنوبی افریقہ کے 11 ممالک میں ایک لاکھ 78 ہزار سے زیادہ چھوٹے کسانوں پر مشتمل خواتین کی خود منظم تحریک ہے۔
تنظیم دیہی خواتین کو زمین، بیج اور جسمانی خودمختاری کے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم کرتی ہے اور کارپوریٹ و پدرشاہانہ استحصال کے خلاف کام کرتی ہے۔ اس نے خطے میں 24 بیج مراکز قائم کیے ہیں جہاں آئندہ فصلوں کے لیے بیج تیار اور محفوظ کیے جاتے ہیں، جبکہ مقامی بیجوں کی سینکڑوں اقسام کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے۔


جارجیا کی انسانی حقوق تنظیم بھی اعزاز کی مستحق
جارجیا کی جارجین ینگ لائرز ایسوسی ایشن کو جمہوریت کے قیام و تحفظ اور شہری حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد پر رائٹ لائیولی ہُڈ ایوارڈ دیا گیا ہے۔


یہ تنظیم 1994 میں رضاکار وکلا نے قائم کی تھی اور اس کے بانی ارکان نے آزادی کے بعد جارجیا کے پہلے آئین کی تیاری میں بھی معاونت کی تھی۔ رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق تنظیم نے معذور افراد کے حقوق، بچوں کے لیے مفت تعلیم اور سوویت دور کے جبر کے متاثرین کے معاوضے سمیت متعدد قانونی معاملات میں کامیابیاں حاصل کیں۔


ٹمنیٹ گیبرو کو مصنوعی ذہانت پر کام کے لیے اعزاز
امریکا میں مقیم ایتھوپیا میں پیدا ہونے والی مصنوعی ذہانت کی محقق ٹمنیٹ گیبرو کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں طاقت کے ارتکاز کو چیلنج کرنے اور مصنوعی ذہانت کے نظام سے پیدا ہونے والے امتیازی اور سماجی نقصانات کو اجاگر کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔


رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق گیبرو نے مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے استعمال میں انسانی حقوق، انصاف اور انسانی تجربات کو مرکز میں رکھنے کے لیے کام کیا ہے۔ وہ ڈسٹری بیوٹڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی بانی ہیں اور مصنوعی ذہانت میں تعصب اور اس کے سماجی اثرات پر تحقیق کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔


رائٹ لائیولی ہُڈ فاؤنڈیشن کے مطابق 2026 کے ایوارڈ کے لیے 72 ممالک سے 200 امیدواروں کی نامزدگیاں موصول ہوئی تھیں۔ چاروں اعزاز یافتگان کو یکم دسمبر کو اسٹاک ہوم میں ہونے والی خصوصی تقریب میں اعزازات دیے جائیں گے۔

 

نوٹ: فاؤنڈیشن کے تازہ سرکاری اعلان کے مطابق اس سال چاروں اعزاز یافتگان خواتین ہیں یا خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تنظیمیں، جبکہ ایوارڈ تقریب یکم دسمبر 2026 کو اسٹاک ہوم میں ہوگی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C